Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 10

  1. وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ﴿10﴾

    1. وَقَالُوْٓااور انہوں نے کہا
    2. ءَاِذَاکیا جب
    3. ضَلَلْنَاہم گم ہوجائیں گے
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. ءَاِنَّاکیا ہم
    6. لَفِيْتو۔ میں
    7. خَلْقٍ جَدِيْدٍنئی پیدائش
    8. بَلْبلکہ
    9. هُمْوہ
    10. بِلِقَآئِملاقات سے
    11. رَبِّهِمْاپنا رب
    12. كٰفِرُوْنَمنکر (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
19 اور یہ لوگ کہتے ہیں”جب ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گےتوکیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟“اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے ربّ کی ملاقات کے منکر ہیں۔ 20
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة السَّجْدَة 19 رسالت اور توحید پر کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے یعنی آخرت پر ان کے اعتراض کو لے کر اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ آیت میں وَقَالُوْا کا واؤ عطف مضمون ماسبق سے اس پیراگراف کا تعلق جوڑتا ہے۔ گویا ترتیب کلام یوں ہے کہ " وہ کہتے ہیں محمد ﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں "، اور " وہ کہتے ہیں کہ ہم مر کر دوبارہ نہ اٹھیں گے "۔ سورة السَّجْدَة 20 اوپر کے فقرے اور اس فقرے کے درمیان پوری ایک داستان کی داستان ہے جسے سامع کے ذہن پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کفار کا جو اعتراض پہلے فقرے میں نقل گیا ہے وہ اتنا مہمل ہے کہ اس کی تردید کی حاجت محسوس نہیں کی گئی۔ اس کا محض نقل کردینا ہی اس کی لغویت ظاہر کرنے کے لیے کافی سمجھا گیا۔ اس لیے کہ ان کا اعتراض جن دو اجزاء پر مشتمل ہے وہ دونوں ہی سراسر غیر معقول ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ " ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے " آخر کیا معنی رکھتا ہے۔ " ہم " جس چیز کا نام ہے وہ مٹی میں کب رلتی ملتی ہے ؟ (مٹی میں تو صرف وہ جسم ملتا ہے جس سے " ہم " نکل چکا ہوتا ہے۔ اس جسم کا نام " ہم " نہیں ہے۔ زندگی کی حالت میں جب اس جسم کے اعضاء کاٹے جاتے ہیں تو عضو پر عضو کٹتا چلا جاتا ہے مگر " ہم " ہم پورا کا پورا اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ اس کا کوئی جز بھی کسی کٹے ہوئے عضو کے ساتھ نہیں جاتا۔ اور جب یہ " ہم " کسی جسم میں سے نکل جاتا ہے تو پورا جسم موجود ہوتے ہوئے بھی اس پر اس " ہم " کے کسی ادنی شائبے تک کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسی لیے تو ایک عاشق جاں نثار اپنے معشوق کے مردہ جسم کو لے جا کر دفن کردیتا ہے، کیونکہ معشوق اس جسم سے نکل چکا ہوتا ہے۔ اور وہ معشوق نہیں بلکہ اس خالی جسم کو دفن کرتا ہے جس میں کبھی اس کا معشوق رہتا تھا۔ پس معترضین کے اعتراض کا پہلا مقدمہ ہی بےبنیاد ہے۔ رہا اس کا دوسرا جز " کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے " ؟ تو یہ انکار و تعجب کے انداز کا سوال سرے سے پیدا ہی نہ ہوتا اگر معترضین نے بات کرنے سے پہلی اس " ہم " اور اس کے پیدا کیے جانے کے مفہوم پر ایک لمحہ کے لیے کچھ غور کرلیا ہوتا۔ اس " ہم " کی موجودہ پیدائش اس کے سوا کیا ہے کہ کہیں کوئلہ اور کہیں سے لوہا اور کہیں سے چونا اور اسی طرح کے دوسرے اجزاء جمع ہوئے اور اس کا لبد خاکی میں یہ " ہم " براجمان ہوگیا۔ پھر اس کی موت کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس لبد خاکی میں سے جب " ہم " نکل جاتا ہے تو اس کا مکان تعمیر کرنے کے لیے جو اجزاء زمین کے مختلف حصوں سے فراہم کیے گئے تھے وہ سب اسی زمین میں واپس چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس نے پہلے اس " ہم " کو یہ مکان بنا کردیا تھا، کیا وہ دوبارہ اسی سر و سامان سے وہی مکان بنا کر اسے از سرنو اس میں نہیں بسا سکتا ؟ یہ چیز جب پہلے ممکن تھی اور واقعہ کی صورت میں رونما ہوچکی ہے، تو دوبارہ اس کے ممکن ہونے اور واقعہ بننے میں آخر کیا امر مانع ہے ؟ یہ باتیں ایسی ہیں جنہیں ذرا سی عقل آدمی استعمال کرے تو خود ہی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن وہ اپنی عقل کو اس رخ پر کیوں نہیں جانے دیتا ؟ کیا وجہ ہے کہ وہ بےسوچے سمجھے حیات بعد الموت اور آخرت پر اس طرح کے لایعنی اعتراضات جڑتا ہے ؟ بیچ کی ساری بحث چھوڑ کر اللہ تعالیٰ دوسرے فقرے میں اسی سوال کا جواب دیتا ہے کہ " دراصل یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں "۔ یعنی اصل بات یہ نہیں ہے کہ دوبارہ پیدائش کوئی بڑی ہی انوکھی اور بعید از امکان بات ہے جو ان کی سمجھ میں نہ آسکتی ہو، بلکہ دراصل جو چیز انہیں یہ بات سمجھنے سے روکتی ہے وہ ان کی یہ خواہش ہے کہ ہم زمین میں چھوٹے پھریں اور دل کھول کر گناہ کریں اور پھر نِلُوہ (Scot-ires) یہاں سے نکل جائیں۔ پھر ہم سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو۔ پھر اپنے کرتوتوں کا کوئی حساب ہمیں نہ دینا پڑے۔