Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 11

  1. قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ع﴿11﴾

    1. قُلْفرما دیں
    2. يَتَوَفّٰىكُمْتمہاری روح قبض کرتا ہے
    3. مَّلَكُ الْمَوْتِموت کا فرشتہ
    4. الَّذِيْوہ جو کہ
    5. وُكِّلَمقرر کیا گیا ہے
    6. بِكُمْتم پر
    7. ثُمَّپھر
    8. اِلٰى رَبِّكُمْتم اپنے رب کی طرف
    9. تُرْجَعُوْنَلوٹائے جاؤ گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِن سے کہو ”موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرّر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے ربّ کی طرف پلٹا لائے جاوٴ گے۔“ 21
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة السَّجْدَة 21 یعنی تمہارا " ہم " مٹی میں رَل مِل نہ جائے گا، بلکہ اس کی مہلت عمل ہوتے ہی خدا کا فرشتہ موت آئے گا اور اسے جسم سے نکال کر سَمُوچا اپنے قبضے میں لے لے گا۔ اس کا کوئی ادنیٰ جز بھی جسم کے ساتھ مٹی میں نہ جاسکے گا۔ اور وہ پورا کا پورا حراست (Custody) میں لے لیا جائے گا اور اپنے رب کے حضور پیش کردیا جائے گا۔ اس مختصر سی آیت میں بہت سے حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے جن پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے 1)۔ اس میں تصریح ہے کہ موت کچھ یوں ہی نہیں آجاتی کہ ایک گھڑی چل رہی تھی، کوک ختم ہوئی اور وہ چلتے چلتے یکایک بند ہوگئی۔ بلکہ دراصل اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص فرشتہ مقرر کر رکھا ہے جو آ کر باقاعدہ روح کو ٹھیک اسی طرح وصول کرتا ہے جس طرح ایک سرکاری امین (Official Receiver) کسی چیز کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر اس کی مزید تفصیلات جو بیان کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس افسر موت کے ماتحت فرشتوں کا ایک پورا عملہ ہے جو موت وارد کرنے اور روح کو جسم سے نکالنے اور اس کو قبضے میں لینے کی بہت سی مختلف النوع خدمات انجام دیتا ہے۔ نیز یہ کہ اس عملے کا برتاؤ مجرم روح کے ساتھ کچھ اور ہوتا ہے اور مومن صالح روح کے ساتھ کچھ اور۔ (ان تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سورة نساء، آیت 97۔ الانعام، 93۔ النحل، 28۔ الواقعہ، 83۔ 94۔ 2)۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت سے انسان معدوم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کی روح جسم سے نکل کر باقی رہتی ہے۔ قرآن کے الفاظ " موت کا فرشتہ تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لیگا۔ " اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ کوئی معدوم چیز قبضے میں لینے کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ مقبوضہ چیز قابض کے پاس رہے۔ 3) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت جو چیز قبضے میں لی جاتی ہے وہ آدمی کی حیوانی زندگی (Biological life) نہیں بلکہ اس کی وہ خودی ‘ اس کی وہ انا (ego) ہے جو " میں " اور " ہم " اور " تم " کے الفاظ سے تعبیر کی جاتی ہے۔ یہ انا دنیا میں کام کر کے جیسی کچھ شخصیت بھی بنتی ہے وہ پوری جوں کی توں (Intact) نکال لی جاتی ہے بغیر اس کے کہ اس کے اوصاف میں کوئی کمی بیشی ہو۔ اور ہی چیز موت کے بعد اپنے رب کی طرف پلٹائی جاتی ہے۔ اسی کو آخرت میں نیا جنم اور نیا جسم دیا جائے گا اسی پر مقدمہ قائم کیا جائے گا ‘ اسی سے حساب لیا جائے گا اور اسی کو جزا و سزا دیکھنی ہوگی۔