Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 3

  1. اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ﴿3﴾

    1. اَمْکیا
    2. يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
    3. افْتَرٰىهُ ۚیہ اس نے گھڑ لیا ہے
    4. بَلْبلکہ
    5. هُوَیہ
    6. الْحَقُّحق
    7. مِنْسے
    8. رَّبِّكَتمہارا رب
    9. لِتُنْذِرَتاکہ تم ڈراؤ
    10. قَوْمًااس قوم کو
    11. مَّآ اَتٰىهُمْان کے پاس نہیں آیا
    12. مِّنْکوئی
    13. نَّذِيْرٍڈرانے والا
    14. مِّنْسے
    15. قَبْلِكَتم سے پہلے
    16. لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
    17. يَهْتَدُوْنَہدایت پالیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
2 کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ 3 نہیں، بلکہ یہ حق ہے تیری رب کی طرف سے 4 تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا ، شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں۔ 5
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة السَّجْدَة 2 اوپر کے تمہیدی فقرے کے بعد مشرکین مکہ کے پہلے اعتراض کو لیا جا رہا ہے جو وہ محمد ﷺ کی رسالت پر کرتے تھے۔ سورة السَّجْدَة 3 یہ محض سوال و استفہام نہیں ہے بلکہ اس میں سخت تعجب کا انداز پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان ساری باتوں کے باوجود، جن کی بنا پر اس کتاب کا منزَّل من اللہ ہونا ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے، کیا یہ لوگ ایسی صریح ہٹ دھرمی کی بات کہہ رہے ہیں کہ محمد ﷺ اسے خود تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ رب العالمین کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ اتنا لغو اور بےسرو پا الزام رکھتے ہوئے کوئی شرم ان کو نہیں آتی ؟ انہیں کچھ محسوس نہیں ہوتا کہ جو لوگ محمد ﷺ کو اور ان کے کام اور کلام کو جانتے ہیں اور اس کتاب کو بھی سمجھتے ہیں، وہ اس بیہودہ الزام کو سن کر کیا رائے قائم کریں گے ؟ سورة السَّجْدَة 4 جس طرح پہلی آیت میں لَا رَیْبَ فِیْہِ ، کہنا کافی سمجھا گیا تھا اور اس سے بڑھ کر کوئی استدلال قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے حق میں پیش کرنے کی ضرورت نہ سمجھی گئی تھی، اسی طرح اب اس آیت میں بھی کفار مکہ کے الزام افترا پر صرف اتنی بات ہی کہنے پر اکتفا کیا جا رہا ہے کہ " یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے " اس کی وجہ وہی ہے جو اوپر 1 میں ہم بیان کرچکے ہیں۔ کون، کس ماحول میں، کس شان کے ساتھ یہ کتاب پیش کر رہا تھا، یہ سب کچھ سامعین کے سامنے موجود تھا۔ اور یہ کتاب بھی اپنی زبان اور اپنے ادب اور مضامین کے ساتھ سب کے سامنے تھی۔ اور اس کے اثرات و نتائج بھی مکہ کی اس سوسائٹی میں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اس صورت حال میں اس کتاب کا رب العالمین سے آیا ہوا حق ہونا ایسا صریح امر واقعہ تھا جسے صرف نعمتی طور پر بیان کردینا ہی کفار کے الزام کی تردید کے لیے کافی تھا۔ اس پر کسی استدلال کی کوشش بات کو مضبوط کرنے کے بجائے الٹی اس کمزور کرنے کی موجب ہوتی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دن کے وقت سورج چمک رہا ہو اور کوئی ڈھیٹ آدمی کہے کہ یہ اندھیری رات ہے۔ اس کے جواب میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ تم اسے رات کہتے ہو ؟ یہ روز روشن تو سامنے موجود ہے۔ اس کے بعد دن کے موجود ہونے پر اگر آپ منطقی دلیلیں قائم کریں گے تو اپنے جواب کے زور میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے بلکہ درحقیقت اس کے زور کو کچھ کم ہی کردیں گے۔ سورة السَّجْدَة 5 یعنی جس کا حق ہونا اور من جانب اللہ ہونا قطعی و یقینی امر ہے اسی طرح اس کا مبنی بر حکمت ہونا اور خود تم لوگوں کے لیے خدا کی ایک رحمت ہونا بھی ظاہر ہے۔ تم خود جانتے کہ صدہا برس سے تمہارے اندر کوئی پیغمبر نہیں آیا ہے۔ تم خود جانتے ہو کہ تمہاری ساری قوم جہالت اور اخلاقی پستی اور سخت پسماندگی میں مبتلا ہے۔ اس حالت میں اگر تمہیں بیدار کرنے اور راہ راست دکھانے کے لیے ایک پیغمبر تمہارے درمیان بھیجا گیا ہے تو اس پر حیران کیوں ہوتے ہو۔ یہ تو ایک بڑی ضرورت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پورا کیا ہے اور تمہاری اپنی بھلائی کے لیے کیا ہے۔ واضح رہے کہ عرب میں دین حق کی روشنی سب سے پہلے حضرت ہود ؑ اور حضرت صالح ؑ کے ذریعہ سے پہنچی تھی جو زمانۂ قبل تاریخ میں گزرے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) آئے جن کا زمانہ حضور ﷺ سے ڈھائی ہزار برس قبل گزرا ہے۔ اس کے بعد آخری پیغمبر جو عرب کی سر زمین میں نبی ﷺ سے پہلے بھیجے گئے وہ حضرت شعیب ؑ تھے۔ اور ان کی آمد پر بھی دو ہزار برس گزر چکے تھے۔ یہ اتنی طویل مدت ہے کہ اس کے لحاظ سے یہ کہنا بالکل بجا تھا کہ اس قوم کے اندر کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا۔ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس قوم میں کبھی کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا تھا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مدت دراز سے یہ قوم ایک متنبہ کرنے والے کی محتاج چلی آ رہی ہے۔ یہاں ایک اور سوال سامنے آجاتا ہے جس کو صاف کردینا ضروری ہے۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے آدمی کے ذہن میں یہ کھٹک پیدا ہوتی ہے کہ جب نبی ﷺ سے پہلے صدہا برس تک عربوں میں کوئی نبی نہیں آیا تو اس جاہلیت کے دور میں گزرے ہوئے لوگوں سے آخر باز پرس کس بنیاد پر ہوگی ؟ انہیں معلوم ہی کب تھی کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا ہے ؟ پھر اگر وہ گمراہ تھے تو اپنی اس گمراہی کے ذمہ دار وہ کیسے قرار دیے جاسکتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دین کا تفصیلی علم چاہے اس جاہلیت کے زمانہ میں لوگوں کے پاس نہ رہا ہو، مگر یہ بات اس زمانے میں بھی لوگوں سے پوشیدہ نہ تھی کہ اصل دین توحید ہے اور انبیاء (علیہم السلام) نے کبھی بت پرستی نہیں سکھائی ہے۔ یہ حقیقت ان روایات میں بھی محفوظ تھی جو عرب کے لوگوں کو اپنی سر زمین کے انبیاء سے پہنچی تھیں، اور اسے قریب کی سرزمین میں آئے ہوئے انبیاء حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کی تعلیمات کے واسطے سے بھی وہ جانتے تھے۔ عرب کی روایات میں یہ بات بھی مشہور و معروف تھی کہ قدیم زمانہ میں اہل عرب کا اصل دین، دین ابراہیمی ؑ تھا اور بت پرستی ان کے ہاں عمرو بن لحیّ نامی ایک شخص نے شروع کی تھی۔ شرک و بت پرستی کے رواج عام کے باوجود عرب کے مختلف حصوں میں جگہ جگہ ایسے لوگ موجود تھے جو شرک سے انکار کرتے تھے، توحید کا اعلان کرتے تھے اور بتوں پر قربانیاں کرنے کی علانیہ مذمت کرتے تھے خود نبی ﷺ کے عہد سے بالکل قریب زمانے میں قُسّ بن ساعِدۃ الایاوی، اُمَیَّہ بن ابی الصَّلْت، سُوْید بن عمرو المُصْطَلِقی، وکیع بن سَعَمہ بن زُہَیر الاِیاوی، عمرو بن جندُب الجُہنِی، ابو قیس صرمہ بن ابی انَس، زید بن عمرو بن نُفَیل، ورقہ بن نوفَل، عثمان بن الحُوَیزِث، عبیداللہ بن جحش، عامر بن الظَّرب العَدْوانی، عَلّاف بن شہاب التَّمیمی، المُتَلَمِسّ بن اُمَیّۃ الکنانی، زُہَیر بن ابی سَلْمیٰ ، خالد بن سنان بن غیث، العَبُسی، عبداللہ القُضَاعِی اور ایسے ہی بہت سے لوگوں کے حالات ہمیں تاریخوں میں ملتے ہیں جنہیں حُنَفَاء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ سب لوگ علی الا علان توحید کو اصل دین کہتے تھے اور مشرکین کے مذہب سے اپنی بےتعلقی کا صاف صاف اظہار کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے ذہن میں یہ تخیل انبیاء (علیہم السلام) کی سابقہ تعلیمات کے باقی ماندہ اثرات ہی سے آیا تھا۔ اس کے علاوہ یمن میں چوتھی پانچویں صدی عیسوی کے جو کتبات آثار قدیمہ کی جدید تحقیقات کے سلسلے میں برآمد ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں وہاں ایک توحیدی مذہب موجود تھا جس کے پیرو الرحمان اور رب السّماء والارض ہی کو اِلٰہ واحد تسلیم کرتے تھے۔ 378 عیسوی کا ایک کتبہ ایک عبادت گاہ کے کھنڈر سے ملا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ یہ معبد " الٰہ ذو سموی " یعنی الٰہ السماء کی عبادت کے لئے بنایا گیا ہے۔ 465 عیسوی کے ایک کتبہ میں بنصر وردا الٰھن بعل سمین وارضین (بنصر و بعون الالٰہ رب السماء والارْض) کے الفاظ لکھے ہیں جو عقیدۂ توحید پر صریح دلالت کرتے ہیں۔ اسی دور کا ایک اور کتبہ ایک قبر پر ملا ہے جس میں بِخَیل رحمنن (یعنی استعین بحول الرحمٰن) کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں، اسی طرح شمال عرب میں دریائے فرات اور قِنَّسرین کے درمیان زَبَد کے مقام پر 512 عیسوی کا ایک کتبہ ملا ہے جس میں بسْم الالٰہ لَا عِزَّ اِلَّا لَہ لَا شُکرَ اِلَّا لَہ کے الفاظ پائے جاتے ہیں۔ یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے انبیاء سابقین کی تعلیمات کے آثار عرب سے بالکل مٹ نہیں گئے تھے اور کم از کم اتنی بات یاد دلانے کے لیے بہت سے ذرائع موجود تھے کہ " تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے "۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، صفحات 464۔ 465)