Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 38

Tafseer
  1. مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ﴿38﴾

    1. مَا كَانَنہیں ہے
    2. عَلَي النَّبِيِّنبی پر
    3. مِنْ حَرَجٍکوئی حرج
    4. فِيْمَااس میں جو
    5. فَرَضَ اللّٰهُمقرر کیا اللہ نے
    6. لَهٗ ۭاس کے لیے
    7. سُنَّةَ اللّٰهِاللہ کا دستور
    8. فِيمیں
    9. الَّذِيْنَوہ جو
    10. خَلَوْاگزرے
    11. مِنْ قَبْلُ ۭپہلے
    12. وَكَانَاور ہے
    13. اَمْرُ اللّٰهِاللہ کا حکم
    14. قَدَرًامقرر کیا ہوا
    15. مَّقْدُوْرَۨااندازہ سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو 74 یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے 75
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْزَاب 74 ان الفاظ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دوسرے مسلمانوں کے لیے تو اس طرح کا نکاح محض مباح ہے مگر نبی ﷺ کے لیے یہ ایک فرض تھا جو اللہ نے آپ پر عائد کیا تھا۔ سورة الْاَحْزَاب 75 یعنی انبیاء کے لیے ہمیشہ سے یہ ضابطہ مقرر رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم بھی آئے اس پر عمل کرنا ان کے لیے قضائے مُبْرَم ہے جس سے کوئی مفر ان کے لیے نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر کوئی کام فرض کر دے تو اسے وہ کام کر کے ہی رہنا ہوتا ہے خواہ ساری دنیا اس کی مخالفت پر تل گئی ہو۔