تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 55
Tafseerلَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا﴿55﴾
- لَا جُنَاحَگناہ نہیں
- عَلَيْهِنَّعورتوں پر
- فِيْٓمیں
- اٰبَآئِهِنَّاپنے باپ
- وَلَآاور نہ
- اَبْنَآئِهِنَّاپنے بیٹوں
- وَلَآ اِخْوَانِهِنَّاور نہ اپنے بھائی
- وَلَآاور نہ
- اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّاور اپنے بھائیوں کے بیٹے
- وَلَآاور نہ
- اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّاپنی بہنوں کے بیٹے
- وَلَااور نہ
- نِسَآئِهِنَّاپنی عورتیں
- وَلَااور نہ
- مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ ۚجس کے مالک ہوئے ان کے ہاتھ (کنیزیں)
- وَاتَّقِيْنَاور ڈرتی رہو
- اللّٰهَ ۭاللہ
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- كَانَہے
- عَلٰيپر
- كُلِّ شَيْءٍہر شے
- شَهِيْدًاگواہ (موجود)
Translation · Tafheem-ul-Quran
ازواجِ نبیؐ کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے ، ان کے بھائی ، ان کے بھتیجے ، ان کے بھانجے 102 ، ان کے میل جول کی عورتیں 103 اور ان کے مملوک 104 گھروں میں آئیں۔ (اے عورتو!) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔ 105
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْزَاب 102
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور حواشی نمبر 38 تا 42۔ اس سلسلے میں علامہ آلوسی کی یہ تشریح بھی قابل ذکر ہے کہ " بھائیوں، بھانجوں، اور بھتیجوں کے حکم میں وہ سب رشتہ دار آجاتے ہیں جو ایک عورت کے لیے حرام ہوں، خواہ وہ نَسَبی رشتہ دار ہوں یا رضاعی۔ اس فہرست میں چچا اور ماموں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ عورت کے لیے بمنزلۂ والدین ہیں۔ یا پھر ان کے ذکر کو اس لیے ساقط کردیا گیا کہ بھانجوں اور بھتیجوں کا ذکر آجانے کے بعد ان کے ذکر کی حاجت نہیں ہے، کیونکہ بھانجے اور بھتیجے سے پردہ نہ ہونے کی جو وجہ ہے وہی چچا اور ماموں سے پردہ نہ ہونے کی وجہ بھی ہے "۔ (رعحالمعانی)
سورة الْاَحْزَاب 103
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور 43۔
سورة الْاَحْزَاب 104
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة نور 44۔
سورة الْاَحْزَاب 105
اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم قطعی کے آجانے کے بعد آئندہ کسی ایسے شخص کو گھروں میں بےحجاب آنے کی اجازت نہ دی جائے جو ان مستثنیٰ رشتہ داروں کے دائرے سے باہر ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی کہ خواتین کو یہ روش ہرگز نہ اختیار کرنی چاہیے کہ وہ شوہر کی موجودگی میں تو پردے کی پابندی کریں مگر جب وہ موجود نہ ہو تو غیر محرم مردوں کے سامنے پردہ اٹھا دیں۔ ان کا یہ فعل چاہے ان کے شوہر سے چھپا رہ جائے خدا سے تو نہیں چھپ سکتا۔