تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 63
Tafseerیَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا﴿63﴾
- يَسْئَلُكَآپ سے سوال کرتے ہیں
- النَّاسُلوگ
- عَنِسے (متعلق)
- السَّاعَةِ ۭقیامت
- قُلْفرمادیں
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- عِلْمُهَااس کا علم
- عِنْدَ اللّٰهِ ۭاللہ کے پاس
- وَمَااور کیا
- يُدْرِيْكَتمہیں خبر
- لَعَلَّشاید
- السَّاعَةَقیامت
- تَكُوْنُہو
- قَرِيْبًاقریب
Translation · Tafheem-ul-Quran
لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی 116 کہو، اس کا علم تو للہ ہی کو ہے۔ تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْزَاب 116
رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال عموماً کفار و منافقین کیا کرتے تھے۔ اور اس سے ان کا مقصد علم حاصل کرنا نہ تھا بلکہ وہ دل لگی اور استہزاء کے طور پر یہ بات پوچھا کرتے تھے۔ دراصل ان کو آخرت کے آنے پر یقین نہ تھا۔ قیامت کے تصور کو وہ محض ایک خالی خولی دھمکی سمجھتے تھے۔ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ اس لیے دریافت نہیں کرتے تھے کہ اس کے آنے سے پہلے وہ اپنے معاملات درست کرلینے کا ارادہ رکھتے ہوں، بلکہ انکا اصل مطلب یہ ہوتا تھا کہ اے محمد ﷺ ہم نے تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ کچھ کیا ہے اور آج تک تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے ہو، اب ذرا ہمیں بتاؤ تو سہی کہ آخر وہ قیامت کب برپا ہوگی جب ہماری خبر لی جائے گی۔