تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 1
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ﴿1﴾
- اَلْحَمْدُتمام تعریفیں
- لِلّٰهِاللہ کے لیے
- الَّذِيْ لَهٗوہ جس کے لیے
- مَاجو
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَمَااور جو
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَلَهُاور اسی کے لیے
- الْحَمْدُہر تعریف
- فِي الْاٰخِرَةِ ۭآخرت میں
- وَهُوَاور وہ
- الْحَكِيْمُحکمت والا
- الْخَبِيْرُخبر رکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
حمد اُس خدا کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے 1 اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے 2۔ وہ دانا اور باخبر ہے۔ 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 1
حمد کا لفظ عربی زبان میں تعریف اور شکر دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہاں دونوں معنی مراد ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا مالک ہے تو لامحالہ اس کائنات میں جمال و کمال اور حکمت وقدرت اور صناعی و کاری گری کی جو شان بھی نظر آتی ہے اس کی تعریف کا مستحق وہی ہے۔ اور اس کائنات میں رہنے والا جس چیز سے بھی کوئی فائدہ یا لطف و لذت حاصل کر رہا ہے اس پر خدا ہی کا شکر اسے ادا کرنا چاہئے۔ کوئی دوسرا جب ان اشیاء کی ملکیت میں شریک نہیں ہے تو اسے نہ حمد کا استحقاق پہنچتا ہے نہ شکر کا۔
سورة سَبـَا 2
یعنی اس طرح اس دنیا کی ساری نعمتیں اسی کی بخشش ہیں اسی طرح آخرت میں بھی جو کچھ کسی کو ملے گا اسی کے خزانوں سے اور اسی کی عطا سے ملے گا، اس لیے وہاں بھی وہی تعریف کا مستحق بھی ہے اور شکر کا مستحق بھی۔
سورة سَبـَا 3
یعنی جس کے سارے کام کمال درجہ حکمت و دانائی پر مبنی ہیں، جو کچھ کرتا ہے بالکل ٹھیک کرتا ہے۔ اور اسے اپنی ہر مخلوق کے متعلق پورا علم ہے کہ وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے، کیا اس کی ضروریات ہیں، کیا کچھ اس کی مصلحت کے لیے مناسب ہے، کیا اس نے اب تک کیا ہے اور آگے کیا اس سے صادر ہونے والا ہے۔ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا سے بیخبر نہیں ہے بلکہ اسے ذرے ذرے کی حالت پوری طرح معلوم ہے۔