تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 2
یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ﴿2﴾
- يَعْلَمُوہ جانتا ہے
- مَا يَلِجُجو داخل ہوتا ہے
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَمَااور جو
- يَخْرُجُنکلتا ہے
- مِنْهَااس سے
- وَمَااور جو
- يَنْزِلُنازل ہوتا ہے
- مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
- وَمَااور جو
- يَعْرُجُچڑھتا ہے
- فِيْهَا ۭاس میں
- وَهُوَاور وہ
- الرَّحِيْمُمہربان
- الْغَفُوْرُبخشنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُتر تا ہےاور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، ہر چیز کو وہ جانتا ہے، وہ رحیم اور غفور ہے۔ 4
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 4
یعنی ایسا نہیں ہے کہ اس کی سلطنت میں اگر کوئی شخص یا گروہ اس کے خلاف بغاوت کرنے کے باوجود پکڑا نہیں جا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ دنیا اندھیر نگری اور اللہ تعالیٰ اس کا چوپٹ راجہ ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے اور درگزر سے کام لینا اس کی عادت ہے۔ عاصی اور خاطی کو قصور سرزد ہوتے ہی پکڑ لینا، اس کا رزق بند کردینا، اس کے جسم کو مفلوج کردینا اس کو آناً فاناً ہلاک کردینا، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، مگر وہ ایسا کرتا نہیں ہے۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ قادر مطلق ہونے کے باوجود وہ نافرمان بندوں کو ڈھیل دیتا ہے، سنبھلنے کی مہلت عطا کرتا ہے، اور جب بھی وہ باز آجائیں، معاف کردیتا ہے۔