تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 10
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ﴿10﴾
- وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور تحقیق ہم نے دیا
- دَاوٗدَداؤد
- مِنَّااپنی طرف سے
- فَضْلًا ۭفضل
- يٰجِبَالُاے پہاڑو
- اَوِّبِيْتسبیح کرو
- مَعَهٗاس کے ساتھ
- وَالطَّيْرَ ۚاور پرندو
- وَاَلَنَّااور ہم نے نرم کردیا
- لَهُاس کے لیے
- الْحَدِيْدَلوہا
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے داوٴدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔ 14 (ہم نے حکم دیا کہ)اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو(اور یہی حکم ہم نے)پرندوں کو دیا۔ 15 ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 14
اشارہ ہے ان بیشمار عنایات کی طرف جن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو نوازا تھا۔ وہ بیت اللحم کے رہنے والے قبیلہ یہو واہ کے ایک معمولی نوجوان تھے۔ فلستیوں کے خلاف ایک معرکے میں جالوت جیسے گرانڈیل دشمن کو قتل کر کے یکایک وہ بنی اسرائیل کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ اس واقعہ سے ان کا عروج شروع ہوا یہاں تک کہ طالوت کی وفات کے بعد پہلے وہ خبرون (موجودہ الخلیل) میں یہودیہ کے فرمانروا بنائے گئے، پھر چند سال بعد تمام قبائل بنی اسرائیل نے مل کر ان کو اپنا بادشاہ منتخب کیا، اور انہوں نے یروشلم کو فتح کر کے اسے دولت اسرائیل کا پایہ تخت بنایا۔ یہ انہی کی قیادت تھی جس کی بدولت تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی خدا پرست سلطنت وجود میں آئی جس کے حدود خلیج عقبہ سے دریائے فرات کے مغربی کناروں تک پھیلے ہوئے تھے۔ اس عنایات پر مزید وہ فضل خداوندی ہے جو علم و حکمت، عدل و انصاف، اور خدا ترسی و بندگی حق کی صورت میں ان کو نصیب ہوا (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول۔ ص 595 تا 598)
سورة سَبـَا 15
یہ مضمون اس سے پہلے سورة انبیا آیت 79 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کرچکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم 174۔ 175)