تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 12
وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ﴿12﴾
- وَلِسُلَيْمٰنَاور سلیمان کے لیے
- الرِّيْحَہوا
- غُدُوُّهَااس کی صبح کی منزل
- شَهْرٌایک ماہ
- وَّ رَوَاحُهَااور شام کی منزل
- شَهْرٌ ۚایک ماہ
- وَاَسَلْنَا لَهٗاور ہم نے بہایا اس کے لیے
- عَيْنَ الْقِطْرِ ۭتانبے کا چشمہ
- وَمِنَاور سے
- الْجِنِّجن
- مَنْ يَّعْمَلُوہ کام کرتے
- بَيْنَ يَدَيْهِاس کے سامنے
- بِاِذْنِاذن (حکم) سے
- رَبِّهٖ ۭاس کے رب کے
- وَمَنْاور جو
- يَّزِغْکجی کرے گا
- مِنْهُمْان میں سے
- عَنْ اَمْرِنَاہمارے حکم سے
- نُذِقْهُہم اس کو چکھائیں گے
- مِنْسے۔ کا
- عَذَابِعذاب
- السَّعِيْرِآگ (دوزخ)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مسخّر کر دیا ، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک۔ 17 ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا 18 اور ایسے جِن اس کے تابع کر دیے جو اپنے ربّ کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے۔ 19 اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 17
یہ مضمون بھی سورة انبیا آیت 81 میں گزر چکا ہے اور اس کی تشریح وہاں کی جا چکی ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم 176۔ 177)
سورة سَبـَا 18
بعض قدیم مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ زمین سے ایک چشمہ حضرت سلیمان ؑ کے لیے پھوٹ نکلا تھا جس میں سے پانی کے بجائے پگھلا ہوا تانبہ بہتا تھا۔ لیکن آیت کی دوسری تاویل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ گویا وہاں تانبے کے چشمے بہ رہے تھے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، ص 176)
سورة سَبـَا 19
یہ جن جو سلیمان ؑ کے لیے مسخر کیے گئے تھے، آیا یہ دہقانی اور کوہستانی انسان تھے یا واقعی وہی جن تھے جو ایک پوشیدہ مخلوق کی حیثیت سے دنیا بھر میں معروف ہیں، اس مسئلے پر بھی سورة انبیا اور سورة نحل کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں۔