تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 14
فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ﴿14﴾
- فَلَمَّاپھر جب ہم نے
- قَضَيْنَاحکم جاری کیا
- عَلَيْهِاس پر
- الْمَوْتَموت
- مَا دَلَّهُمْانہیں پتہ نہ دیا
- عَلٰي مَوْتِهٖٓاس کی موت کا
- اِلَّامگر
- دَآبَّةُ الْاَرْضِگھن کا کیڑا
- تَاْكُلُوہ کھاتا تھا
- مِنْسَاَتَهٗ ۚاس کا عصا
- فَلَمَّاپھر جب
- خَرَّوہ گرپڑا
- تَبَيَّنَتِحقیقت کھلی
- الْجِنُّجن
- اَنْاگر
- لَّوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَوہ جانتے ہوتے
- الْغَيْبَغیب
- مَا لَبِثُوْاوہ نہ رہتے
- فِيمیں
- الْعَذَابِعذاب
- الْمُهِيْنِذلت
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جِنّوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھُن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جِنّوں پر یہ بات کھُل گئی 23 کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلّت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔ 24
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 23
اصل لفظ ہیں تَبَیَّنَتِ الجِنُّ۔۔ اس فقرے کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو ہم نے اوپر متن میں کیا ہے۔ اور دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنوں کا حال کھل گیا یا منکشف ہوگیا۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خود جنوں کو پتہ چل گیا کہ غیب دانی کے متعلق ان کا زعم غلط ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ عام لوگ جو جنوں کو غیب داں سمجھتے تھے ان پر یہ راز فاش ہوگیا کہ وہ علم غیب نہیں رکھتے۔
سورة سَبـَا 24
موجودہ زمانے کے بعض مفسرین نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت سلیمان کا بیٹا رَجُبعام چونکہ نالائق اور عیش پسند تھا اور خوشامدی مصاحبوں میں گھرا ہوا تھا، اس لیے اپنے جلیل القدر والد کی وفات کے بعد وہ اس بار عظیم کو نہ سنبھال سکا جو اس پر آ پڑا تھا۔ اس کی جانشینی کے تھوڑی مدت بعد ہی سلطنت کا قصر دھڑام سے زمین پر آ رہا اور گرد و پیش کے جن سرحدی قبائل (یعنی جنوں) کو حضرت سلیمان ؑ نے اپنی قوت قاہرہ سے خادم بنا رکھا تھا وہ سب قابو سے نکل گئے۔ لیکن یہ تاویل کسی طرح بھی قرآن کے الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن کے الفاظ جو نقشہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ پر ایسی حالت میں موت طاری ہوئی جبکہ وہ ایک عصا کے سہارے کھڑے یا بیٹھے تھے۔ اس عصا کی وجہ سے ان کا بےجان جسم اپنی جگہ قائم رہا اور جن یہ سمجھتے ہوئے ان کی خدمت میں لگے رہے کہ وہ زندہ ہیں۔ آخر کار جب عصا کو گھن لگ گیا اور وہ اندر سے کھوکھلا ہوگیا تو ان کا جسم زمین پر گرگیا اور اس وقت جنوں کو پتہ چلا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس صاف اور صریح بیان واقعہ کو آخر یہ معنی پہنانے کی کیا معقول وجہ ہے کہ گھن سے مراد حضرت سلیمان کے بیٹے کی نالائقی ہے، اور عصا سے مراد ان کا اقتدار ہے، اور ان کے مردہ جسم کے گر جانے سے مراد ان کی سلطنت کا پارہ پارہ ہوجانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اگر یہی مضمون بیان کرنا ہوتا تو کیا اس کے لیے عربی مبین میں الفاظ موجود نہ تھے کہ اس ہیر پھیر کے ساتھ اسے بیان کیا جاتا ؟ یہ پہیلیوں کی زبان آخر قرآن مجید میں کہاں استعمال کی گئی ہے ؟ اور اس زمانے کے عام عرب جو اس کلام کے اولین مخاطب تھے، یہ پہیلی کیسے بوجھ سکتے تھے ؟
پھر اس تاویل کا سب سے زیادہ عجیب حصہ یہ ہے کہ اس میں جنوں سے مراد وہ سرحدی قبائل لیے گئے ہیں جنہیں حضرت سلیمان نے اپنی خدمت میں لگا رکھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان قبائل میں سے کون غیب دانی کا مدعی تھا اور کس کو مشرکین غیب داں سمجھتے تھے ؟ آیت کے آخری الفاظ کو اگر کوئی شخص آنکھیں کھول کر پڑھے تو وہ خود دیکھ سکتا ہے کہ جن سے مراد یہاں لازماً کوئی ایسا گروہ ہے جو یا تو خود غیب دانی کا دعوی رکھتا تھا، یا لوگ اس کو غیب داں سمجھتے تھے، اور اس گروہ کے غیب سے ناواقف ہونے کا راز اس واقعہ نے فاش کردیا کہ وہ حضرت سلیمان ؑ کو زندہ سمجھتے ہوئے خدمت میں لگے رہے، حالانکہ ان کا انتقال ہوچکا تھا۔ قرآن مجید کا یہ بیان اس کے لیے کافی تھا کہ ایک ایسا ایماندار آدمی اس کو دیکھ کر اپنے اس خیال پر نظر ثانی کرلیتا کہ جن سے مراد سرحدی قبائل ہیں۔ لیکن جو لوگ مادہ پرست دنیا کے سامنے جن نامی ایک پوشیدہ مخلوق کا وجود تسلیم کرتے ہوئے شرماتے ہیں وہ قرآن کی اس تصریح کے باوجود اپنی تاویل پر مصر ہیں۔
قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مشرکین عرب جنوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے تھے، انہیں اللہ کی اولاد سمجھتے تھے اور ان سے پناہ مانگا کرتے تھے
وَجَعَلُوا للہِ شُرَکآَءَ الجِنَّ وَخَلَقَھُم۔ (الانعام، 100)
اور انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا حالانکہ اس نے ان کو پیدا کیا ہے۔
وَجَعَلُوا بینَہْ وَبَیْنَ الجِنّۃِ نَسَبَا۔ (الصّٰفّٰت۔ 158)
اور انہوں نے اللہ کے اور جنوں کے درمیان نسبی تعلق تجویز کرلیا۔
وَاَنَّہْ کَانَ رِجَال مّنَ ا لْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ۔ (الجن۔ 6)
اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
انہی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ وہ جنوں کو عالم الغیب سمجھتے تھے اور غیب کی باتیں جاننے کے لیے ان کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ یہاں اسی عقیدے کی تردید کے لیے یہ واقعہ سنا رہا ہے اور اس سے مقصود کفار عرب کو یہ احساس دلانا ہے کہ تم لوگ خواہ مخواہ جاہلیت کے غلط عقائد پر اصرار کیے چلے جا رہے ہو حالانکہ تمہارے یہ عقائد بالکل بےبنیاد ہیں (مزید توضیح کے لیے آگے 63 ملاحظہ ہو)