تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 15
لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ﴿15﴾
- لَقَدْ كَانَالبتہ تھی
- لِسَبَاٍ(قوم) سبا کے لیے
- فِيْمیں
- مَسْكَنِهِمْان کی آبادی
- اٰيَةٌ ۚایک نشانی
- جَنَّتٰنِدو باغ
- عَنْ يَّمِيْنٍدائیں سے
- وَّ شِمَالٍاور بائیں
- كُلُوْاتم کھاؤ
- مِنْسے
- رِّزْقِ رَبِّكُمْاپنے رب کے رزق
- وَاشْكُرُوْااور شکر ادا کرو
- لَهٗ ۭاس کا
- بَلْدَةٌشہر
- طَيِّبَةٌپاکیزہ
- وَّرَبٌّاور پروردگار
- غَفُوْرٌبخشنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
25 سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی 26 ، دو باغ دائیں اور بائیں 27۔ کھاوٴ اپنے ربّ کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاوٴ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 25
سلسلۂ بیان کو سمجھنے کے لیے رکوع اول کے مضمون کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کفار عرب آخرت کی آمد کو بعید از عقل سمجھتے تھے۔ اور جو رسول اس عقیدے کو پیش کر رہا تھا اس کے متعلق کھلم کھلا یہ کہہ رہے تھے کہ ایسی عجیب باتیں کرنے والا آدمی یا تو مجنون ہوسکتا ہے، یا پھر وہ جان بوجھ کر افترا پردازی کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پہلے چند عقلی دلائل ارشاد فرمائے جن کی تشریح ہم حواشی نمبر 7۔ 8۔ 12 میں کرچکے ہیں۔ اس کے بعد رکوع دوم میں حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا قصہ اور پھر سبا کا قصہ ایک تاریخی دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس سے مقصود یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ہے کہ روئے زمین پر خود نوع انسانی کی اپنی سرگزشت قانون مکافات کی شہادت دے رہی ہے۔ انسان اپنی تاریخ کو غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے جس کا سارا کارخانہ اندھا دھند چل رہا ہو بلکہ اس پر ایک سمیع وبصیر خدا فرمانروائی کر رہا ہے جو شکر کی راہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ایک معاملہ کرتا ہے اور ناشکری و کافر نعمتی کی راہ چلنے والوں کے ساتھ بالکل ہی ایک دوسرا معاملہ فرماتا ہے۔ کوئی سبق لینا چاہے تو اسی تاریخ سے یہ سبق لے سکتا ہے کہ جس خدا کی سلطنت کا یہ مزاج ہے اس کی خدائی میں نیکی اور بدی کا انجام کبھی یکساں نہیں ہو سکتا۔ اس کے عدل و انصاف کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے جب نیکی کا پورا اجر اور بدی کا پورا بدلہ دیا جائے۔
سورة سَبـَا 26
یعنی اس امر کی نشانی کہ جو کچھ ان کو میسر ہے وہ کسی کا عطیہ ہے نہ کہ ان کا اپنا آفریدہ۔ اور اس امر کی نشانی کہ ان کی بندگی و عبادت اور شکر وسپاس کا مستحق وہ خدا ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں دی ہیں نہ کہ وہ جن کا کوئی حصہ ان نعمتوں کی بخشش میں نہیں ہے۔ اور اس امر کی نشانی کہ ان کی دولت لازوال نہیں ہے بلکہ جس طرح آئی ہے اسی طرح جا بھی سکتی ہے۔
سورة سَبـَا 27
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پورے ملک میں بس دو ہی باغ تھے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سبا کی پوری سر زمین گلزار بنی ہوئی تھی۔ آدمی جہاں بھی کھڑا ہوتا اسے اپنے دائیں جانب بھی باغ نظر آتا اور بائیں جانب بھی۔