تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 18
وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ﴿18﴾
- وَجَعَلْنَااور ہم نے ( آباد) کردیے
- بَيْنَهُمْان کے درمیان
- وَبَيْنَاور درمیان
- الْقُرَىبستیاں
- الَّتِيْوہ جنہیں
- بٰرَكْنَاہم نے برکت دی
- فِيْهَااس میں
- قُرًىبستیاں
- ظَاهِرَةًایک دوسرے سے متصل
- وَّقَدَّرْنَااور ہم نے منفرد کردیا
- فِيْهَا السَّيْرَان میں آمد و رفت
- سِيْرُوْاتم چلو (پھرو)
- فِيْهَاان میں
- لَيَالِيَراتوں
- وَاَيَّامًااور دنوں
- اٰمِنِيْنَامن سے (ب خوف و خطر)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان ، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی ، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں۔ 31 چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 31
" برکت والی بستیوں " سے مراد شام و فلسطین کا علاقہ ہے جسے قرآن مجید میں عموماً اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف، آیت 137۔ بنی اسرائیل، آیت 1۔ الانبیاء، آیات 71 و 81)
نمایاں بستیوں سے رماد ہیں ایسی بستیاں جو شاہراہ عام پر واقع ہوں، گوشوں میں چھپی ہوئی نہ ہوں، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بستیاں بہت زیادہ فاصلے پر نہ تھیں بلکہ متصل تھیں۔ ایک بستی کے آثار ختم ہونے کے بعد دوسری بستی کے آثار نظر آنے لگتے تھے۔
سفر کی مسافتوں کو ایک اندازے پر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ یمن سے شام تک کا پورا سفر مسلسل آباد علاقے میں طے ہوتا تھا جس کی ہر منزل سے دوسری منزل تک کی مسافت معلوم و متعین تھی۔ آباد علاقوں کے سفر اور غیر آباد صحرائی علاقوں کے سفر میں یہی فرق ہوتا ہے۔ صحراء میں مسافر جب تک چاہتا ہے چلتا ہے اور جب تھک جاتا ہے تو کسی جگہ پڑاؤ کرلیتا ہے۔ بخلاف اس کے آباد علاقوں میں راستے کی ایک بستی سے دوسری بستی تک کی مسافت جانی بوجھی اور متعین ہوتی ہے۔ مسافر پہلے سے پروگرام بنا سکتا ہے کہ راستے کے کن کن مقامات پر وہ ٹھہرتا ہوا جائے گا، کہاں دوپہر گزارے گا اور کہاں رات بسر کرے گا۔