Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 19

  1. فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ﴿19﴾

    1. فَقَالُوْاوہ کہنے لگے
    2. رَبَّنَااے ہمارے رب
    3. بٰعِدْدوری پیدا کرے
    4. بَيْنَ اَسْفَارِنَاہمارے سفروں کے درمیان
    5. وَظَلَمُوْٓااور انہوں نے ظلم کیا
    6. اَنْفُسَهُمْاپنی جانوں پر
    7. فَجَعَلْنٰهُمْتو ہم نے بنادیا انہیں
    8. اَحَادِيْثَافسانے
    9. وَمَزَّقْنٰهُمْاور ہم نے انہیں پراگندہ کردیا
    10. كُلَّ مُمَزَّقٍ ۭپوری طرح پراگندہ
    11. اِنَّبیشک
    12. فِيْ ذٰلِكَاس میں
    13. لَاٰيٰتٍنشانیاں
    14. لِّكُلِّ صَبَّارٍہر بڑے صبر کرنے والے
    15. شَكُوْرٍشکر گزارے
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر انہوں نے کہا”اے ہمارے ربّ، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے۔ 32“ انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تِتّر بِتّر کر ڈالا 33۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو 34
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 32 ضروری نہیں ہے کہ انہوں نے زبان ہی سے یہ دعا کی ہو۔ دراصل جو شخص بھی خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ گویا زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ خدایا، میں ان نعمتوں کا مستحق نہیں ہوں۔ اور اسی طرح جو قوم اللہ کے فضل سے غلط فائدہ اٹھاتی ہے وہ گویا اپنے رب سے یہ دعا کرتی ہے کہ اے پروردگار، یہ نعمتیں ہم سے سلب کرلے کیونکہ ہم ان کے قابل نہیں ہیں۔ علاوہ بریں آیت (رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا) (خدایا ہمارے سفر دور دراز کردے) کے الفاظ سے کچھ یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ شاید سبا کی قوم کو اپنی آبادی کی کثرت کھلنے لگی تھی اور دوسری نادان قوموں کی طرح اس نے بھی اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرہ سمجھ کر انسانی نسل کی افزائش کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ سورة سَبـَا 33 یعنی سبا کی قوم ایسی منتشر ہوئی کہ اس کی پراگندگی ضرب المثل ہوگئی۔ آج بھی اہل عرب اگر کسی گروہ کے انتشار کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں " تفرقوا ایدی سبا " وہ تو ایسے پراگندہ ہوگئے جیسے سبا کی قوم پراگندہ ہوئی تہی۔ " اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب زوال نعمت کا دور شروع ہوا تو سبا کے مختلف قبیلے اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر عرب کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ غسانیوں نے اردن اور شام کا رخ کیا۔ اوس و خزرج کے قبیلے یثرب میں جا بسے۔ خزاعہ نے جدے کے قریب تہامہ کے علاقہ میں سکونت اختیار کی۔ اَزد کا قبیلہ عمان میں جا کر آباد ہوا۔ لخم اور جذام اور کندہ بھی نکلنے پر مجبور ہوئے۔ حتی کہ " سبا " نام کی کوئی قوم ہی دنیا میں باقی نہ رہی۔ صرف اس کا ذکر افسانوں میں رہ گیا۔ سورة سَبـَا 34 اس سیاق وسباق میں صابر و شاکر سے مراد ایسا شخص یا گروہ ہے جو اللہ کی طرف سے نعمتیں پاکر آپے سے باہر نہ ہوجائے، نہ خوشحالی پر پھولے اور نہ اس خدا کو بھول جائے جس نے یہ سب کچھ اسے عطا کیا ہے۔ ایسا انسان ان لوگوں کے حالات سے بہت کچھ سبق لے سکتا ہے جنہوں نے عروج و ترقی کے مواقع پاکر نافرمانی کی روش اختیار کی اور اپنے انجام بد سے دوچار ہو کر رہے۔