Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 20

  1. وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿20﴾

    1. وَلَقَدْاور البتہ
    2. صَدَّقَسچ کر دکھایا
    3. عَلَيْهِمْان پر
    4. اِبْلِيْسُابلیس
    5. ظَنَّهٗاپنا گمان
    6. فَاتَّبَعُوْهُپس انہوں نے اس کی پیروی کی
    7. اِلَّاسوائے
    8. فَرِيْقًاایک گروہ
    9. مِّنَسے۔ کا
    10. الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُن کے معاملہ میں ابلیس نے اپنا  گمان صحیح پایا او ر انہوں نے اُسی کی پیروی کی ، بجُز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا 35
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 35 تاریخ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قدیم زمانے سے قوم سبا میں ایک عنصر موجود تھا جو دوسرے معبودوں کو ماننے کے بجائے خدائے واحد کو مانتا تھا۔ موجودہ زمانے کی اثری تحقیقات کے سلسلے میں یمن کے کھنڈروں سے جو کتبات ملے ہیں ان میں سے بعض اس قلیل عنصر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ 650 قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے کے بعض کتبات بتاتے ہیں کہ مملکت سبا کے متعدد مقامات پر ایسی عبادت گاہیں بنی ہوئی تھیں جو ذسموی یا ذو سماوی (یعنی رب السماء) کی عبادت کے لیے مخصوص تھیں۔ بعض مقامات پر اس معبود کا نام ملکن ذسموی (وہ بادشاہ جو آسمانوں کا مالک ہے) لکھا گیا ہے۔ یہ عنصر مسلسل صدیوں تک یمن میں موجود رہا۔ چناچہ 378 کے ایک کتبے میں بھی الٰہ ذو سموی کے نام سے ایک عبادت گاہ کی تعمیر کا ذکر ملتا ہے۔ پھر 465 کے ایک کتبے میں یہ الفاظ پائے جاتے ہیں بنصر وردا الٰھن بعل سمین وارضین (یعنی اس خدا کی مدد اور تائید سے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے)۔ اسی زمانہ کے ایک اور کتبے میں جس کی تاریخ 458 قبل مسیح ہے اسی خدا کے لیے رحمان کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اصل الفاظ ہیں بردا رحمنن (یعنی رحمان کی مدد سے)۔