تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 26
قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ﴿26﴾
- قُلْفرما دیں آپ
- يَجْمَعُوہ جمع کرے گا
- بَيْنَنَاہم سب کو
- رَبُّنَاہمارا رب
- ثُمَّپھر
- يَفْتَحُفیصلہ کرے گا
- بَيْنَنَاہمارے درمیان
- بِالْحَقِّ ۭٹھیک ٹھیک
- وَهُوَاور وہ
- الْفَتَّاحُفیصلہ کرنے والا
- الْعَلِيْمُجاننے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہو”ہمارا ربّ ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا۔ وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے۔ 45“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 45
یہ اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے آخری اور سب سے بڑا محرک ہے جس کی طرف سامعین کی توجہ دلائی گئی ہے۔ بات اسی حد پر ختم نہیں ہوجاتی کہ اس زندگی میں ہمارے اور تمہارے درمیان حق و باطل کا اختلاف ہے اور ہم میں سے کوئی ایک ہی حق پر ہے، بلکہ اس کے آگے حقیقت نفس الامری یہ بھی ہے کہ ہمیں اور تمہیں، دونوں ہی کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور رب وہ ہے جو حقیقت کو بھی جانتا ہے اور ہم دونوں گروہوں کے حالات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ وہاں جا کر نہ صرف اس امر کا فیصلہ ہوگا کہ ہم میں اور تم میں سے حق پر کون تھا اور باطل پر کون۔ بلکہ اس مقدمے کا فیصلہ بھی ہوجائے گا کہ ہم نے تم پر حق واضح کرنے کے لیے کیا کچھ کیا اور تم نے باطل پرستی کی ضد میں آ کر ہماری مخالفت کس کس طرح کی۔