تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 25
قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿25﴾
- قُلْفرمادیں
- لَّا تُسْئَلُوْنَتم سے نہ پوچھا جائے
- عَمَّآاس کی بابت
- اَجْرَمْنَاجو ہم نے گناہ کیا
- وَلَا نُسْئَلُاور نہ ہم سے پوچھا جائے گا
- عَمَّااس کی بابت
- تَعْمَلُوْنَجو تم کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
ان سے کہو”جو قصُور ہم نے کیا ہواس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی 44۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 44
اوپر کی بات سامعین کو پہلے ہی سوچنے پر مجبور کرچکی تھی۔ اس پر مزید ایک فقرہ یہ فرما دیا گیا تاکہ وہ اور زیادہ تفکر سے کام لیں۔ اس سے ان کو یہ احساس دلایا گیا کہ ہدایت اور گمراہی کے اس معاملے کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنا ہم میں سے ہر ایک کے اپنے مفاد کا تقاضا ہے۔ فرض کرو کہ ہم گمراہ ہیں تو اپنی اس گمراہی کا خمیازہ ہم ہی بھگتیں گے، تم پر اس کی کوئی پکڑ نہ ہوگی۔ اس لیے یہ ہمارے اپنے مفاد کا تقاضا ہے کہ کوئی عقیدہ اختیار کرنے سے پہلے خوب سوچ لیں کہ کہیں ہم غلط راہ پر تو نہیں جا رہے ہیں۔ اسی طرح تم کو بھی ہماری کسی غرض کے لیے نہیں بلکہ خود اپنی ہی خیر خواہی کی خاطر ایک عقیدے پر جمنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ کہیں تم کسی باطل نظریے پر تو اپنی زندگی کی ساری پونجی نہیں لگا رہے ہو۔ اس معاملے میں اگر تم نے ٹھوکر کھائی تو تمہارا اپنا ہی نقصان ہوگا، ہمارا کچھ نہ بگڑے گا۔