Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 37

  1. وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ﴿37﴾

    1. وَمَآاور نہیں
    2. اَمْوَالُكُمْتمہارے مال
    3. وَلَآاور نہ
    4. اَوْلَادُكُمْتمہاری اولاد
    5. بِالَّتِيْوہ جو کہ
    6. تُقَرِّبُكُمْتمہیں نزدیک کردے
    7. عِنْدَنَاہمارے نزدیک
    8. زُلْفٰٓيدرجہ
    9. اِلَّامگر
    10. مَنْجو
    11. اٰمَنَایمان لایا
    12. وَعَمِلَ صَالِحًا ۡاور اس نے اچھے عمل کیے
    13. فَاُولٰٓئِكَیہی لوگ
    14. لَهُمْان کے لیے
    15. جَزَآءُجزا
    16. الضِّعْفِدوگنی
    17. بِمَا عَمِلُوْااس کے بدلے جو انہوں نے کیا
    18. وَهُمْاور وہ
    19. فِي الْغُرُفٰتِبالاخانوں میں
    20. اٰمِنُوْنَامن سے ہوں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ 57 یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دُہری جزا ہے ، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے 58
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 57 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ سے قریب کرنے والی چیز مال اور اولاد نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل صالح ہے۔ دوسرے یہ کہ مال اور اولاد صرف اس مومن صالح انسان ہی کے لیے ذریعہ تقرُّب بن سکتے ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے خدا شناس اور نیک کردار بنانے کی کوشش کرے۔ سورة سَبـَا 58 اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ ان کی یہ نعمت لازوال ہوگی اور اس اجر کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ کیونکہ جس عیش کے کبھی ختم ہوجانے کا خطرہ ہو اس سے انسان پوری طرح مطمئن ہو کر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ معلوم کب یہ سب کچھ چھن جائے۔