Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 36

  1. قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿36﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. اِنَّبیشک
    3. رَبِّيْمیرا رب
    4. يَبْسُطُوسیع فرماتا ہے
    5. الرِّزْقَرزق
    6. لِمَنْ يَّشَآءُجس کے لیے وہ چاہتا ہے
    7. وَيَقْدِرُاور تنگ کردیتا ہے
    8. وَلٰكِنَّاور لیکن
    9. اَكْثَرَ النَّاسِاکثر لوگ
    10. لَا يَعْلَمُوْنَنہیں جانتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبیؐ ، اِن سے کہو میرا ربّ جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے ، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے۔  56
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 56 یعنی دنیا میں رزق کی تقسیم کا انتظام جس حکمت و مصلحت پر مبنی ہے اس کو یہ لوگ نہیں سمجھتے اور اس غلط فہمی میں پڑجاتے ہیں کہ جسے اللہ کشادہ رزق دے رہا ہے وہ اس کا محبوب ہے، اور جسے تنگی کے ساتھ دے رہا ہے وہ اس کے غضب میں مبتلا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے تو اسے نظر آسکتا ہے کہ بسا اوقات بڑے ناپاک اور گھناؤنے کردار کے لوگ نہایت خوشحال ہوتے ہیں، اور بہت سے نیک اور شریف انسان، جن کی کردار کی خوبی کا ہر شخص معترف ہوتا ہے، تنگدستی میں مبتلا پائے جاتے ہی۔ اب آخر کون صاحب عقل آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ کو یہ پاکیزہ اخلاق کے لوگ ناپسند ہیں اور وہ شریر و خبیث لوگ ہی اسے بھلے لگتے ہیں۔