Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 40

  1. وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ﴿40﴾

    1. وَيَوْمَاور جس دن
    2. يَحْشُرُهُمْوہ جمع کرے گا ان کو
    3. جَمِيْعًاسب
    4. ثُمَّ يَقُوْلُپھر فرمائے گا
    5. لِلْمَلٰٓئِكَةِفرشتوں کو
    6. اَهٰٓؤُلَآءِکیا یہ لوگ
    7. اِيَّاكُمْتمہاری ہی
    8. كَانُوْا يَعْبُدُوْنَپرستش کرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا”کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے 61 ؟“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 61 قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور کے مشرکین فرشتوں کو دیوی اور دیوتا قرار دے کر ان کے بت بناتے اور ان کی پرستش کرتے رہے ہیں۔ کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی بجلی کا اور کوئی ہوا کا۔ کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی علم کی اور کوئی موت و ہلاکت کی۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ قیامت کے روز ان فرشتوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم ہی ان لوگوں کے معبود بنے ہوئے تھے ؟ اس سوال کا مطلب محض دریافت حال نہیں ہے بلکہ اس میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ کیا تم ان کی اس عبادت سے راضی تھے ؟ کیا تم نے یہ کہا تھا کہ لوگو ہم تمہارے معبود ہیں، تم ہماری پوجا کیا کرو ؟ یا تم نے یہ چاہا کہ یہ لوگ تمہاری پوجا کریں ؟ قیامت میں یہ سوال صرف فرشتوں ہی سے نہیں بلکہ تمام ان ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت کی گئی ہے۔ چناچہ سورة فرقان میں ارشاد ہوا ہے وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعبُدُوْن مِنْ دُوْنِ اللہِ فَیَقُوْلُءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤُلَآءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ۔ (آیت 17) جس روز اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اور ان ہستیوں کو جن کی یہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں جمع کریگا، پھر پوچھے گا کہ تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے ؟