تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 41
قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ﴿41﴾
- قَالُوْاوہ کہیں گے
- سُبْحٰنَكَتو پاک ہے
- اَنْتَتو
- وَلِيُّنَاہمارا کارساز
- مِنْ دُوْنِهِمْ ۚان کے سوائے (نہ کہ وہ)
- بَلْبلکہ
- كَانُوْا يَعْبُدُوْنَوہ پرستش کرتے تھے
- الْجِنَّ ۚجن (جمع)
- اَكْثَرُهُمْان میں سے اکثر
- بِهِمْان پر
- مُّؤْمِنُوْنَاعتقاد رکھتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تو وہ جواب دیں گے”پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہےنہ کہ اِن لوگوں سے 62۔ دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جِنّوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے 63۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 62
یعنی وہ جواب دیں گے کہ حضور کی ذات اس سے منزہ اور بالا تر ہے کہ کوئی دوسرا خدائی و معبودیت میں آپ کا شریک ہو۔ ہمارا ان لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہم ان سے اور ان کے افعال سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو حضور کے بندے ہیں۔
سورة سَبـَا 63
اس فقرے میں جن سے مراد شیاطین جن ہیں۔ فرشتوں کے اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو یہ ہمارے نام لے کر، اور اپنے تخیلات کے مطابق ہماری صورتیں بنا کر گویا ہماری عبادت کرتے تھے، لیکن دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ شیا طین کی بندگی کر رہے تھے، کیونکہ شیاطین ہی نے ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا حاجت روا سمجھو اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش کیا کرو۔
یہ آیت صریح طور پر ان لوگوں کے خیال کی غلطی واضح کردیتی ہے جو " جن " کو پہاڑی علاقے کے باشندوں یا دہقانوں اور صحرائیوں کے معنی میں لیتے ہیں۔ کیا کوئی صاحب عقل آدمی اس آیت کو پڑھ کر یہ تصور کرسکتا ہے کہ لوگ کوہستانی اور صحرائی اور دیہاتی آدمیوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے۔
اس آیت سے عبادت کے بھی ایک دوسرے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت صرف پرستش اور پوجا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے بلکہ کسی کے حکم پر چلنا اور اس کی بےچون و چرا اطاعت کرنا بھی عبادت ہی ہے۔ حتٰی کہ اگر آدمی کسی پر لعنت بھیجتا ہو (جیسا کہ شیطان پر بھیجتا ہے) اور پھر بھی پیروی اسی کے طریقے کی کیے جا رہا ہو تب بھی وہ اس کی عبادت کا مرتکب ہے۔ اس کی دوسری مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، ص 398۔ 484۔ جلد دوم، ص 189۔ 190۔ جلد سوم، ص 69۔ 656۔