تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 50
قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ﴿50﴾
- قُلْفرمادیں
- اِنْاگر
- ضَلَلْتُمیں بہکا ہوں
- فَاِنَّمَآتو اس کے سوا نہیں
- اَضِلُّمیں بہکا ہوں
- عَلٰي نَفْسِيْ ۚاپنی جان پر (اپنے نقصان کو)
- وَاِنِاور اگر
- اهْتَدَيْتُمیں ہدایت پر ہوں
- فَبِمَاتو اس کی بدولت
- يُوْحِيْٓوہ وحی کرتا ہے
- اِلَيَّمیری طرف
- رَبِّيْ ۭمیرا رب
- اِنَّهٗبیشک وہ
- سَمِيْعٌسننے والا
- قَرِيْبٌقریب
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہو”اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا ربّ میرے اُوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سُنتا ہے اور قریب ہی ہے۔ 71
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 71
اس زمانے کے بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس کی رو سے نبی ﷺ گمراہ ہو سکتے تھے، بلکہ ہوجایا کرتے تھے، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ ہی کی زبان سے یہ کہلوا دیا کہ اگر میں گمراہ ہوتا ہوں تو اپنی گمراہی کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں اور راہ راست پر میں بس اس وقت ہوتا ہوں جب میرا رب مجھ پر وحی (یعنی آیات قرآنی) نازل کرتا ہے۔ اس غلط تاویل سے یہ ظالم گویا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی زندگی معاذ اللہ ہدایت و ضلالت کا مجموعہ تھی اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے حضور ﷺ سے یہ اعتراف اس لیے کروا رہا تھا کہ کہیں کوئی شخص آپ ﷺ کو بالکل ہی راہ راست پر سمجھ کر آپ کی مکمل پیروی نہ اختیار کر بیٹھے حالانکہ جو شخص بھی سلسلہ کلام پر غور کرے گا وہ جان لے گا کہ یہاں " اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں " کے الفاظ اس معنی میں نہیں کہے گئے ہیں کہ معاذ اللہ حضور ﷺ فی الواقع گمراہ ہوجاتے تھے، بلکہ پوری بات اس معنی میں کہی گئی ہے کہ " اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں، جیسا کہ تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو، اور میرا یہ نبوت کا دعویٰ اور میری یہ دعوت توحید اسی گمراہی کا نتیجہ ہے جیسا کہ تم گمان کر رہے ہو، تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہی پڑے گا، اس کی ذمہ داری میں تم نہ پکڑے جاؤ گے۔ لیکن اگر میں ہدایت پر ہوں، جیسا کہ درحقیقت ہوں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھ پر میرے رب کی طرف سے وحی آتی ہے جس کے ذریعہ سے مجھے راہ راست کا علم حاصل ہوگیا ہے۔ میرا رب قریب ہی موجود ہے اور سب کچھ سن رہا ہے، اسے معلوم ہے کہ میں گمراہ ہوں یا اس کی طرف سے ہدایت یافتہ۔ "