Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 35. Faatir · Ayah 41

  1. اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا﴿41﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. اللّٰهَاللہ
    3. يُمْسِكُتھام رکھا ہے
    4. السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
    5. وَالْاَرْضَاور زمین
    6. اَنْکہ
    7. تَزُوْلَا ڬٹل جائیں وہ
    8. وَلَئِنْاور اگر وہ
    9. زَالَتَآٹل جائیں
    10. اِنْنہ
    11. اَمْسَكَهُمَاتھامے گا انہیں
    12. مِنْ اَحَدٍکوئی بھی
    13. مِّنْۢ بَعْدِهٖ ۭاس کے بعد
    14. اِنَّهٗبیشک وہ
    15. كَانَہے
    16. حَلِيْمًاحلم والا
    17. غَفُوْرًابخشنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے، اور  اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دُوسرا  انہیں تھامنے والا نہیں ہے۔ 69 بے شک اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے۔ 70
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة فَاطِر 69 یعنی یہ اتھاہ کائنات اللہ تعالیٰ کے قائم رکھنے سے قائم ہے۔ کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی اس کو سنبھالے ہوئے نہیں ہے۔ کائنات کو سنبھالنا تو درکنار، یہ بےبس بندے تو اپنے وجود کے سنبھالنے پر بھی قادر نہیں۔ ہر ایک اپنی پیدائش اور اپنے بقاء کے لیے ہر آن اللہ جل شانہ کا محتاج ہے۔ ان میں سے کسی کے متعلق یہ سمجھنا کہ خدائی کی صفات اور اختیارات میں اس کا کوئی حصہ ہے خالص حماقت اور فریب خوردگی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ سورة فَاطِر 70 یعنی یہ سراسر اللہ کا حلم اور اس کی چشم پوشی ہے کہ اتنی بڑی گستاخیاں اس کی جناب میں کی جا رہی ہیں اور پھر بھی وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کر رہا ہے۔