تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 35. Faatir · Ayah 42
وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ﴿42﴾
- وَاَقْسَمُوْااور انہوں نے قسم کھائی
- بِاللّٰهِاللہ کی
- جَهْدَ اَيْمَانِهِمْاپنی سخت قسمیں
- لَئِنْاگر
- جَآءَهُمْان کے پاس آئے
- نَذِيْرٌکوئی ڈرانے والا
- لَّيَكُوْنُنَّالبتہ وہ ضرور ہوں گے
- اَهْدٰىزیادہ ہدایت پانے والے
- مِنْ اِحْدَىہر ایک سے
- الْاُمَمِ ۚامت (جمع)
- فَلَمَّاپھر جب
- جَآءَهُمْان کے پاس آیا
- نَذِيْرٌایک نذیر
- مَّا زَادَهُمْنہ ان (میں) زیادہ ہوا
- اِلَّامگر۔ سوائے
- نُفُوْرَۨابدکنا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دُوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے۔ 71 مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے اِن کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة فَاطِر 71
یہ بات نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کے لوگ عموماً اور قریش کے لوگ خصوصاً یہود و نصاریٰ کی بگڑی ہوئی اخلاقی حالت کو دیکھ کر کہا کرتے تھے۔ ان کے اس قول کا ذکر اس سے پہلے سورة انعام (آیت 156۔ 157) میں بھی گزر چکا ہے اور آگے سورة صافّات (167 تا 169) میں بھی آ رہا ہے۔