Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 36. Yaseen · Ayah 38

Tafseer
  1. وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ﴿38﴾

    1. وَالشَّمْسُاور سورج
    2. تَجْرِيْچلتا رہتا ہے
    3. لِمُسْتَقَرٍّٹھکانے (مقررہ راستہ
    4. لَّهَا ۭاپنے
    5. ذٰلِكَیہ
    6. تَقْدِيْرُنظام
    7. الْعَزِيْزِغالب
    8. الْعَلِيْمِجاننے والا (دانا)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور سُورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ 33 یہ زبر دست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب  ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یٰسٓ 33 ٹھکانے سے مراد وہ جگہ بھی ہو سکتی ہے جہاں جا کر سورج کو آخر کار ٹھر جانا ہے اور وہ وقت بھی ہوسکتا ہے جب وہ ٹھر جائے گا۔ اس آیت کا صحیح مفہوم انسان اسی وقت متعین کرسکتا ہے جبکہ اسے کائنات کے حقائق کا ٹھیک ٹھیک علم حاصل ہوجائے۔ لیکن انسانی علم کا حال یہ ہے کہ وہ ہر زمانہ میں بدلتا رہا ہے اور آج جو کچھ اسے بظاہر معلوم ہے اس کے بدل جانے کا ہر وقت امکان ہے۔ سورج کے متعلق قدیم زمانے کے لوگ عینی مشاہدے کی بنا پر یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ پھر مزید تحقیق و مشاہدہ کے بعد یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ وہ اپنی جگہ ساکن ہے اور نظام شمسی کے سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ لیکن یہ نظریہ بھی مستقل ثابت نہ ہوا۔ بعد کے مشاہدات سے پتہ چلا کہ نہ صرف سورج، بلکہ وہ تمام تارے جن کو ثوابت (Fixed Stars) کہا جاتا ہے، ایک رخ پر چلے جا رہے ہیں۔ ثوابت کی رفتار کا اندازہ 10 سے لے کر 100 میل فی سکنڈ تک کیا گیا ہے۔ اور سورج کے متعلق موجودہ زمانہ کے ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ وہ اپنے پورے نظام شمسی کو لیے ہوئے 20 کلو میٹر (تقریباً 12 میل) فی سکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، لفظ " اسٹار "۔ اور لفظ " سن ")۔