تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 10
اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ﴿10﴾
- اِلَّاسوائے
- مَنْجو
- خَطِفَلے بھاگا
- الْخَطْفَةَاچک کر
- فَاَتْبَعَهٗتو اس کے پیچھے لگا
- شِهَابٌ ثَاقِبٌایک انگارا دہکتا ہوا
Translation · Tafheem-ul-Quran
تا ہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اُڑے تو ایک تیز شُعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ 7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الصّٰٓفّٰت 7
اس مضمون کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس وقت عرب میں کہانت کا بڑا چرچا تھا۔ جگہ جگہ کاہن بیٹھے پیشن گوئیاں کر رہے تھا، غیب کی خبریں دے رہے تھے، گم شدہ چیزوں کے پتے بتا رہے تھے، اور لوگ اپنے اگلے پچھلے حال دریافت کرنے کے لیے ان سے رجوع کر رہے تھے۔ ان کاہنوں کا دعویٰ یہ تھا کہ جن اور شیاطین ان کے قبضے میں ہیں اور وہ انہیں ہر طرح کی خبریں لا لا کردیتے ہیں۔ اس ماحول میں جب رسول اللہ ﷺ منصب نبوت پر سرفراز ہوئے اور آپ نے قرآن مجید کی آیات سنانی شروع کیں جن میں پچھلی تاریخ اور آئندہ پیش آنے والے حالات کی خبریں دی گئی تھیں، اور ساتھ ساتھ آپ نے یہ بھی بتایا کہ ایک فرشتہ یہ آیات میرے پاس لاتا ہے، تو آپ کے مخالفین نے فوراً آپ کے اوپر کاہن کی پھبتی کس دی اور لوگوں سے کہنا شروع کردیا کہ ان کا تعلق بھی دوسرے کاہنوں کی طرح کسی شیطان سے ہے جو عالم بالا سے کچھ سن گن لے کر ان کے پاس آجاتا ہے اور یہ اسے وحی الہٰی بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ اس الزام کے جواب میں اللہ تعالیٰ یہ حقیقت ارشاد فرما رہا ہے کہ شیاطین کی تو رسائی ہی عالم بالا تک نہیں ہو سکتی۔ وہ اس پر قادر نہیں ہیں کہ ملاء اعلیٰ (یعنی گروہ ملائکہ) کی باتیں سن سکیں اور لا کر کسی کو خبریں دے سکیں۔ اور اگر اتفاقاً کوئی ذرا سی بھنک کسی شیطان کے کان میں پڑجاتی ہے تو قبل اس کے کہ وہ اسے لے کر نیچے آئے، ایک تیز شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ملائکہ کے ذریعہ سے کائنات کا جو عظیم الشان نظام چل رہا ہے وہ شیاطین کی دراندازی سے پوری طرح محفوظ ہے۔ اس میں دخل دینا تو درکنار، اس کی معلومات حاصل کرنا بھی ان کے بس میں نہیں ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، صفحہ 500 تا 502)