تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 11
فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ﴿11﴾
- فَاسْتَفْتِهِمْپس ان سے پوچھیں
- اَهُمْکیا ان
- اَشَدُّ خَلْقًازیادہ مشکل پیدا کرنا
- اَمْیا
- مَّنْجو
- خَلَقْنَا ۭہم نے پیدا کیا
- اِنَّا خَلَقْنٰهُمْبیشک ہم نے پیدا کیا انہیں
- مِّنْسے
- طِيْنٍ لَّازِبٍمٹی چپکتی ہوئی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟ 8 اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔ 9
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الصّٰٓفّٰت 8
یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے، کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے۔ اس کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بیشمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا، اور جو خود تم کو ایک دفعہ پیدا کرچکا ہے، اس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری دوبارہ تخلیق سے وہ عاجز ہے۔
سورة الصّٰٓفّٰت 9
یعنی یہ انسان کوئی بڑی چیز تو نہیں ہے۔ مٹی سے بنایا گیا ہے اور پھر اسی مٹی سے بنایا جاسکتا ہے۔
لیس دار گارے سے انسان کی پیدائش کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اول کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی اور پھر آگے نسل انسانی اسی پہلے انسان کے نطفے سے وجود میں آئی۔ اور یہ بھی ہے کہ ہر انسان لیس دار گارے سے بنا ہے۔ اس لیے کہ انسان کا سارا مادہ وجود زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ جس نطفے سے وہ پیدا ہوا ہے وہ غذا ہی سے بنتا ہے، اور استقرار حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی پوری ہستی جن اجزاء سے مرکب ہوتی ہے وہ سب بھی غذا ہی سے فراہم ہوتے ہیں۔ یہ غذا خواہ حیوانی ہو یا نباتی، آخر کار اس کا ماخذ وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ مل کر اس قابل ہوتی ہے کہ انسان کی خوراک کے لیے غلے اور ترکاریاں اور پھل نکالے، اور ان حیوانات کو پرورش کرے جن کا دودھ اور گوشت انسان کھاتا ہے۔
پس بنائے استدلال یہ ہے کہ یہ مٹی اگر حیات قبول کرنے کے لائق نہ تھی تو تم آج کیسے زندہ موجود ہو ؟ اگر اس میں زندگی پیدا کیے جانے کا آج امکان ہے، جیسا کہ تمہارا موجود ہونا خود اس کے امکان کو صریح طور پر ثابت کر رہا ہے، تو کل دوبارہ اسی مٹی سے تمہاری پیدائش کیوں ممکن نہ ہوگی ؟