Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 113

Tafseer
  1. وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ع﴿113﴾

    1. وَبٰرَكْنَااور ہم نے برکت نازل کی
    2. عَلَيْهِاس پر۔ اس کو
    3. وَعَلٰٓياور پر
    4. اِسْحٰقَ ۭاسحاق
    5. وَمِنْاور سے ۔ میں
    6. ذُرِّيَّتِهِمَاان دونوں کی اولاد
    7. مُحْسِنٌنیکو کار
    8. وَّظَالِمٌاور ظلم کرنے والا
    9. لِّنَفْسِهٖاپنی جان پر
    10. مُبِيْنٌصریح
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اسے اور اسحاق کو برکت دی 67۔اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے 68
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الصّٰٓفّٰت 67 یہاں پہنچ کر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے جن صاحبزادے کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے آپ کو خود اس قربانی کے لیے پیش کردیا تھا، وہ کون تھے۔ اب سے پہلے اس سوال کا جواب ہمارے سامنے بائیبل کی طرف سے آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ " خدا نے ابرہام کو آزمایا اور اسے کہا اے ابرہام ـــــ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔ " (پیدائش، 221۔ 2) اس بیان میں ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق کی قربانی مانگی تھی، اور دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اکلوتے تھے۔ حالانکہ خود بائیبل ہی کے دوسرے بیانات سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اسحاق اکلوتے نہ تھے۔ اس کے لیے ذرا بائیبل ہی کی حسب ذیل تصریحات ملاحظہ ہوں " اور ابرام کی بیوی ساری کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔ اور ساری نے ابرام سے کہا کہ دیکھ خداوند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے سو تو میری لونڈی کے پاس جا، شائد اس سے میرا گھر آباد ہو۔ اور ابرام نے ساری کی بات مانی۔ اور ابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہوگئے تھے جب اس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اسے دی کہ اس کی بیوی بنے اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی۔ " (پیدائش، 161۔ 3) " خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا پیدا ہوگا۔ اس کا نام اسماعیل رکھنا " (1611) " جب ابرام سے ہاجرہ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا " (1616) اور خداوند نے ابرام سے کہا کہ ساری جو تیری بیوی ہے ــــــ اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا ـــــــ تو اس کا نام اضحاق رکھنا ــــــ جو اگلے سال اسی وقت معین پر سارہ سے پیدا ہوگا۔ ــــــــــ تب ابرہام نے اپنے بیٹے اسماعیل کو اور ـــــــ گھر کے سب مردوں کو لیا اور اسی روز خدا کے حکم کے مطابق ان کا ختنہ کیا۔ ابرہام ننانوے برس کا تھا جب اس کا ختنہ ہوا اور جب اسماعیل کا ختنہ ہوا تو وہ تیرہ برس کا تھا (پیدائش 1715۔ 25) اور جب اس کا بیٹا اضحاق اس سے پیدا ہوا تو ابرہام سو برس کا تھا (پیدائش، 215) اس سے بائیبل کی تضاد بیانی صاف کھل جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ 14 برس تک تنہا حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے تھے۔ اب اگر قربانی اکلوتے بیٹے کی مانگی گئی تھی تو وہ حضرت اسحاق کی نہیں بلکہ حضرت اسماعیل کی تھی۔ کیونکہ وہی اکلوتے تھے۔ اور اگر حضرت اسحاق کی قربانی مانگی گئی تھی تو پھر یہ کہنا غلط ہے کہ اکلوتے بیٹے کی قربانی مانگی گئی تھی۔ اس کے بعد ہم اسلامی روایات کو دیکھتے ہیں اور ان میں سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ مفسرین نے صحابہ وتابعین کی جو روایات نقل کی ہیں ان میں ایک گروہ کا قول یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق تھے، اور اس گروہ میں حسب ذیل بزرگوں کے نام ملتے ہیں حضرت عمر۔ حضرت علی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب۔ حضرت عبداللہ بن عباس۔ حضرت ابوہریرہ۔ قتادہ۔ عکرمہ۔ حسن بصری۔ سعید بن جبیر۔ مجاہد۔ شعبی۔ مسروق۔ مکحول۔ زُہری۔ عطاء۔ مُقاتل۔ سدی۔ کعب احبار۔ زید بن اسلم ؓ وغیرہم۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ وہ حضرت اسماعیل تھا۔ اور اس گروہ میں حسب ذیل بزرگوں کے نام نظر آتے ہیں حضرت ابوبکر۔ حضرت علی۔ حضرت عبداللہ بن عمر۔ حضرت عبداللہ بن عباس۔ حضرت ابوہریرہ۔ حضرت معاویہ۔ عکرمہ۔ مجاہد۔ یوسف بن مہران۔ حسن بصری۔ محمد بن کعب القرظی۔ شعبی۔ سعید بن المسیّب۔ ضحاک۔ محمد بن علی بن حسین (محمد الباقر)۔ ربیع بن انس۔ احمد بن حنبل ؓ وغیرہم۔ ان دونوں فہرستوں کا تقابل کیا جائے تو متعدد نام ان میں مشترک نظر آئیں گے۔ یعنی ایک ہی بزرگ سے دو مختلف قول منقول ہوئے ہیں۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباس سے عکرمہ یہ قول نقل کرتے ہیں کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق تھے۔ مگر انہی سے عطاء بن ابی رباح یہ بات نقل کرتے ہیں کہ زعمت الیھود انہ اسحٰق وکذبت الیھود (یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اسحٰق تھے، مگر یہودی جھوٹ کہتے ہیں)۔ اسی طرح حضرت حسن بصری سے روایت یہ ہے کہ وہ حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کے قائل تھے۔ مگر عمرو بن عبید کہتے ہیں کہ حسن بصری کو اس امر میں کوئی شک نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے جس بیٹے کو ذبیح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ اسماعیل ؑ تھے۔ اس اختلاف روایات کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ علماء اسلام میں سے بعض پورے جزم و وثوق کے ساتھ حضرت اسحاق کے حق میں رائے دیتے ہیں، مثلاً ابن جریر اور قاضی عیاض۔ اور بعض قطعی طور پر حکم لگاتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسماعیل تھے، مثلاً ابن کثیر۔ اور بعض مذبذب ہیں، مثلاً جلال الدین سیوطی۔ لیکن اگر تحقیق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ امر ہر شک و شبہ سے بالا تر نظر آتا ہے کہ حضرت اسماعیل ہی ذبیح تھے۔ اس کے دلائل حسب ذیل ہیں 1)۔ اوپر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے کہ اپنے وطن سے ہجرت کرتے وقت حضرت ابراہیم نے ایک صالح بیٹے کے لیے دعا کی تھی اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک حلیم لڑکے کی بشارت دی۔ فحوائے کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ دعا اس وقت کی گئی تھی جب آپ بےاولاد تھے۔ اور بشارت جس لڑکے کی دی گئی وہ آپ کا پہلونٹا بچہ تھا۔ پھر یہ بھی قرآن ہی کے سلسلہ کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہی بچہ جب باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوا تو اسے ذبح کرنے کا اشارہ فرمایا گیا۔ اب یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے پہلوٹے صاحبزادے حضرت اسماعیل تھے نہ کہ حضرت اسحاق۔ خود قرآن مجید میں صاحبزادوں کی ترتیب اس طرح بیان ہوئی ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ (ابراہیم۔ آیت 39) 2)۔ قرآن مجید میں جہاں حضرت اسحاق کی بشارت دی گئی ہے وہاں ان کے لیے غلام علیم (علم والے لڑکے) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ فَبَشَّرُوْہُ بِغُلَامٍ عَلِیْمٍ (الذاریات۔ 28)۔ لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ عَلِیْمٍ (الحجر۔ 53)۔ مگر یہاں جس لڑکے کی بشارت دی گئی ہے اس کے لیے غلام حلیم (برد بار لڑکے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو صاحبزادوں کی دو نمایاں صفات الگ الگ تھیں۔ اور ذبح کا حکم غلام علیم کے لیے نہیں بلکہ غلام حلیم کے لیے تھا۔ 3)۔ قرآن مجید میں حضرت اسحاق کی پیدائش کی خوش خبری دیتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ یہ خوشخبری بھی دے دی گئی تھی کہ ان کے ہاں یعقوب ؑ جیسا بیٹا پیدا ہوگا۔ فَبَشَّرْنَاھَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ (ہود۔ 71) اب ظاہر ہے کہ جس بیٹے کی پیدائش کی خبر دینے کے ساتھ ہی یہ خبر بھی دی جاچکی ہو کہ اس کے ہاں ایک لائق لڑکا پیدا ہوگا، اس کے متعلق اگر حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا جاتا کہ آپ اسے ذبح کر رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم اس سے کبھی یہ نہ سمجھ سکتے تھے کہ اس بیٹے کو قربان کردینے کا اشارہ فرمایا جا رہا ہے۔ علامہ ابن جریر اس دلیل کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ممکن ہے یہ خواب حضرت ابراہیم ؑ کو اس وقت دکھایا گیا ہو جب حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب علی السلام پیدا ہوچکے ہوں۔ لیکن درحقیقت یہ اس دلیل کا نہایت ہی بودا جواب ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ یہ ہیں کہ " جب وہ لڑکا باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوگیا " تب یہ خواب دکھایا گیا تھا۔ ان الفاظ کو جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر پڑھے گا اس کے سامنے آٹھ دس برس کے بچے کی تصویر آئے گی۔ کوئی شخص بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ جوان صاحب اولاد بیٹے کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہوں گے۔ 4)۔ اللہ تعالیٰ سارا قصہ بیان کرنے کے بعد آخر میں فرماتا ہے کہ " ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے "۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی بیٹا نہیں ہے جسے ذبح کرنے کا اشارہ کیا گیا تھا۔ بلکہ پہلے کسی اور بیٹے کی بشارت دی گئی۔ پھر جب وہ باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوا تو اسے ذبح کرنے کا حکم ہوا۔ پھر جب حضرت ابراہیم اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تب ان کو ایک اور بیٹے اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی۔ یہ ترتیب واقعات قطعی طور پر فیصلہ کردیتی ہے کہ جن صاحبزادے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ حضرت اسحاق نہ تھے، بلکہ وہ ان سے کئی برس پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ علامہ ابن جریر اس صریح دلیل کو یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ پہلے صرف حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ پھر جب وہ خدا کی خوشنودی پر قربان ہونے کے لیے تیار ہوگئے تو اس کا انعام اس شکل میں دیا گیا کہ ان کے نبی ہونے کی خوشخبری دی گئی۔ لیکن یہ ان کے پہلے جواب سے بھی زیادہ کمزور جواب ہے۔ اگر فی الواقع بات یہی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یوں نہ فرماتا کہ " ہم نے اس کو اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے "۔ بلکہ یوں فرماتا کہ ہم نے اس کو یہ بشارت دی کہ تمہارا یہی لڑکا ایک نبی ہوگا صالحین میں سے۔ 5)۔ معتبر روایات سے یہ ثابت ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ کے فدیہ میں جو مینڈھا ذبح کیا گیا تھا اس کے سینگ خانہ کعبہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانے تک محفوظ تھے۔ بعد میں جب حجاج بن یوسف نے حرم میں ابن زبیر کا محاصرہ کیا اور خانہ کعبہ کو مسمار کردیا تو وہ سینگ بھی ضائع ہوگئے۔ ابن عباس اور عامر شعبی دونوں اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ انہیں نے خود خانہ کعبہ میں یہ سینگ دیکھے ہیں (ابن کثیر)۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قربانی کا یہ واقعہ شام میں نہیں بلکہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا، اور حضرت اسماعیل کے ساتھ پیش آیا تھا، اسی لیے تو حضرت ابراہیم و اسماعیل کے تعمیر کردہ خانہ کعبہ میں اس کی یاد گار محفوظ رکھی گئی تھی۔ 6)۔ یہ بات صدیوں سے عرب کی روایات میں محفوظ تھی کہ قربانی کا یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا۔ اور یہ صرف روایت ہی نہ تھی بلکہ اس وقت سے نبی ﷺ کے زمانے تک مناسک حج میں یہ کام بھی برابر شامل چلا آ رہا تھا کہ اسی مقام منیٰ میں جا کر لوگ اسی جگہ پر جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے قربانی کی تھی، جانور قربان کیا کرتے تھے۔ پھر جب نبی ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ نے بھی اس طریقے کو جاری رکھا، حتیٰ کہ آج تک حج کے موقع پر دس ذی الحجہ کو منیٰ میں قربانیاں کی جاتی ہیں۔ ساڑھے چار ہزار برس کا یہ متواتر عمل اس امر کا ناقابل انکار ثبوت ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس قربانی کے وارث بنی اسماعیل ہوئے ہیں نہ کہ بنی اسحاق۔ حضرت اسحاق کی نسل میں ایسی کوئی رسم کبھی جاری نہیں رہی ہے جس میں ساری قوم بیک وقت قربانی کرتی ہو اور اسے حضرت ابراہیم کی قربانی کی یادگار کہتی ہو۔ یہ ایسے دلائل ہیں جن کو دیکھنے کے بعد یہ بات قابل تعجب نظر آتی ہے کہ خود امت مسلمہ میں حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کا خیال آخر پھیل کیسے گیا۔ یہودیوں نے اگر حضرت اسماعیل ؑ کو اس شرف سے محروم کر کے اپنے دادا حضرت اسحاق کی طرف اسے منسوب کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ لیکن آخر مسلمانوں کے ایک گروہ کثیر نے ان کی اس دھاندلی کو کیسے قبول کرلیا ؟ اس سوال کا بہت شافی جواب علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں " حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے، مگر بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ سارے اقوال (جو حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کے حق میں ہیں) کعب احبار سے منقول ہیں۔ یہ صاحب جب حضرت عمر کے زمانے میں مسلمان ہوئے تو کبھی کبھی یہ یہود و نصاریٰ کی قدیم کتابوں کے مندرجات ان کو سنایا کرتے تھے اور حضرت عمر انہیں سن لیا کرتے تھے۔ اس بنا پر دوسرے لوگ بھی ان کی باتیں سننے لگے اور سب رطب و یابس جو وہ بیان کرتے تھے انہیں روایت کرنے لگے۔ حالانکہ اس امت کو ان کے اس ذخیرۂ معلومات میں سے کسی چیز کی بھی ضرورت نہ تھی۔ " اس سوال پر مزید روشنی محمد بن کعب قرظی کی ایک روایت سے پڑتی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری موجودگی میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ہاں یہ سوال چھڑا کہ ذبیح حضرت اسحاق تھے یا حضرت اسماعیل۔ اس وقت ایک ایسے صاحب بھی مجلس میں موجود تھے جو پہلے یہودی علماء میں سے تھے اور بعد میں سچے دل سے مسلمان ہوچکے تھے۔ انہوں نے کہا، " امیرالمومنین، خدا کی قسم وہ اسماعیل ہی تھے، اور یہودی اس بات کو جانتے ہیں، مگر وہ عربوں سے حسد کی بنا پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسحاق تھے " (ابن جریر)۔ ان دونوں باتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ دراصل یہ یہودی پروپیگنڈا کا اثر تھا جو مسلمانوں میں پھیل گیا، اور مسلمان چونکہ علمی معاملات میں ہمیشہ غیر متعصب رہے ہیں، اس لیے ان میں سے بہت سے لوگوں نے یہودیوں کے ان بیانات کو، جو وہ قدیم صحیفوں کے حوالہ سے تاریخی روایات کے بھیس میں پیش کرتے تھے، محض ایک علمی حقیقت سمجھ کر قبول کرلیا اور یہ محسوس نہ کیا کہ اس میں علم کے بجائے تعصب کار فرما ہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 68 یہ فقرہ اس پورے مقصد پر روشنی ڈالتا ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کا یہ قصہ یہاں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دو بیٹوں کی نسل سے دو بہت بڑی قومیں پیدا ہوئیں۔ ایک بنی اسرائیل، جن کے گھر سے دنیا کے دو بڑے مذہب (یہودیت اور نصرانیت) نکلے اور انہوں نے روئے زمین کے بہت بڑے حصے کو حلقہ بگوش بنایا۔ دوسرے بنی اسماعیل جو نزول قرآن کے وقت تمام اہل عرب کے مقتدا و پیشوا تھے، اور اس وقت مکہ معظمہ کے قبیلہ قریش کو ان میں سب سے زیادہ اہم مقام حاصل تھا۔ نسل ابراہیمی کی ان دونوں شاخوں کو جو کچھ بھی عروج نصیب ہوا وہ حضرت ابراہیم اور ان کے ان دو عظیم المرتبت صاحبزادوں کے ساتھ انتساب کی بدولت ہوا، ورنہ دنیا میں نہ معلوم ایسے ایسے کتنے خاندان پیدا ہوئے ہیں اور گوشۂ گمنامی میں جا پڑے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ اس خاندان کی تاریخ کا سب سے زیادہ زرین کارنامہ سنانے کے بعد ان دونوں گروہوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمہیں دنیا میں یہ جو کچھ شرف نصیب ہوا ہے وہ خدا پرستی اور اخلاص و فدویت کی ان شاندار روایات کی وجہ سے ہوا ہے جو تمہارے باپ دادا ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق (علیہم السلام) نے قائم کی تھیں۔ وہ انہیں بتاتا ہے کہ ہم نے ان کو جو برکت عطا فرمائی اور ان پر اپنے فضل و کرم کی جو بارشیں برسائیں، یہ کوئی اندھی بانٹ نہ تھی کہ بس یونہی ایک شخص اور اس کے دو لڑکوں کو چھانٹ کر نواز دیا گیا ہو، بلکہ انہوں نے اپنے مالک حقیقی کے ساتھ اپنی وفاداری کے کچھ ثبوت دیے تھے اور ان کی بنا پر وہ ان عنایات کے مستحق بنے تھے۔ اب تم لوگ محض اس فخر کی بنا پر کہ تم ان کی اولاد ہو، ان عنایات کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ ہم تو یہ دیکھیں گے کہ تم میں سے محسن کون ہے اور ظالم کون۔ پھر جو جیسا ہوگا، اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کریں گے۔