تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 129
Tafseerوَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ﴿129﴾
- وَتَرَكْنَااور ہم نے باقی رکھا
- عَلَيْهِاس پر (اس کا ذکر خیر)
- فِي الْاٰخِرِيْنَبعد میں آنے والوں میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور الیاسؑ کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا73
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الصّٰٓفّٰت 73
حضرت الیاس ؑ کو ان کی زندگی میں تو بنی اسرائیل نے جیسا کچھ ستایا اس کی داستان اوپر گزر چکی ہے، مگر بعد میں وہ ان کے ایسے گرویدہ و شیفتہ ہوئے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کم ہی لوگوں کو انہوں نے ان بڑھ کر جلیل القدر مانا ہوگا۔ ان کے ہاں مشہور ہوگیا کہ الیاس ؑ ایک بگولے میں آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے ہیں (2 سلاطین، باب دوم) اور یہ کہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں گے۔ چناچہ بائیبل کی کتاب ملاکی میں لکھا ہے
" دیکھو، خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پہلے میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا " (45)
حضرت یحیٰی اور عیسیٰ (علیہما السلام) کی بعثت کے زمانہ میں یہودی بالعموم تین آنے والوں کے منتظر تھے۔ ایک حضرت الیاس۔ دوسرے مسیح۔ تیسرے " وہ نبی " (یعنی آنحضرت ﷺ۔ جب حضرت یحییٰ کی نبوت شروع ہوئی اور انہوں نے لوگوں کو اصطباغ دنیا شروع کیا تو یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں نے ان کے پاس جاکر پوچھا کیا تم مسیح ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا کیا تم ایلیاہ ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا کیا تم " وہ نبی " ہو ؟ انہوں نے کہا میں وہ بھی نہیں ہوں۔ تب انہوں نے کہا اگر تم نہ مسیح ہو، نہ ایلیاہ، نہ وہ نبی، تو پھر تم بپتسمہ کیوں دیتے ہو ؟ (یوحنا 119۔ 26)۔ پھر کچھ مدت بعد جب حضرت عیسیٰ ؑ کا غلغلہ بلند ہوا تو یہودیوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ شاید ایلیاہ نبی آگئے ہیں (مرقس 615۔ 15) خود حضرت عیسیٰ ؑ کے حواریوں میں بھی یہ خیال پھیلا ہوا تھا کہ ایلیاہ نبی آنے والے ہیں۔ مگر حضرت نے یہ فرما کر ان کی غلط فہمی کو رفع فرمایا کہ " ایلیاہ تو آ چکا، اور لوگوں نے اسے نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔ " اس سے حواری خود جان گئے کہ دراصل آنے والے حضرت یحییٰ تھے نہ کہ آٹھ سو برس پہلے گزرے ہوئے حضرت الیاس (متی 1114 اور متی 1710۔ 13)۔