Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 157

  1. فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿157﴾

    1. فَاْتُوْاتو لے آؤ
    2. بِكِتٰبِكُمْاپنی کتاب
    3. اِنْاگر
    4. كُنْتُمْتم ہو
    5. صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تو لاوٴ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو۔ 88
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الصّٰٓفّٰت 88 یعنی ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے کے لیے دو ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو ایسی بات مشاہدے کی بنا پر کہی جاسکتی ہے، یا پھر اس طرح کا دعویٰ کرنے والے کے پاس کوئی کتاب الٰہی ہونی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہو کہ ملائکہ میری بیٹیاں ہیں۔ اب اگر اس عقیدے کے قائلین نہ مشاہدے کا دعویٰ کرسکتے ہیں، اور نہ کوئی کتاب الہٰی ایسی رکھتے ہیں جس میں یہ بات کہی گئی ہو، تو اس سے بڑی جہالت و حماقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ محض ہوائی باتوں پر ایک دینی عقیدہ قائم کرلیا جائے اور خداوند عالم کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو صریحاً مضحکہ انگیز ہیں۔