Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 26

  1. بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ﴿26﴾

    1. بَلْ هُمُبلکہ وہ
    2. الْيَوْمَآج
    3. مُسْتَسْلِمُوْنَسرجھکائے فرمانبردار
Translation · Tafheem-ul-Quran
ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“ 17
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الصّٰٓفّٰت 17 پہلا فقرہ مجرمین کو خطاب کر کے ارشاد ہوگا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا جائے گا جو اس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ فقرہ خود بتارہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہوگی۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کس بل نکل چکے ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور درباریوں میں سے کوئی " اعلیٰ حضرت " کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا ہوگا اور اس کا لشکر جرار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم ہو رہے ہوں گے اور مریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہوگی کہ حضرت والا کی توہین نہ ہونے پائے۔ کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں ان کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں گے۔ حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر جان چھڑکتے تھے انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہوگی۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر اللہ تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان کے جو تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے، اور یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست کے غرور میں مبتلا ہیں، وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا۔