Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 33

  1. وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴿33﴾

    1. وَالَّذِيْاور جو شخص
    2. جَآءَآیا
    3. بِالصِّدْقِسچائی کے ساتھ
    4. وَصَدَّقَاور اس نے تصدیق کی
    5. بِهٖٓاس کو
    6. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    7. هُمُوہ
    8. الْمُتَّقُوْنَ(جمع) متقی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اُس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں۔ 52
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّمَر 52 مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جو مقدمہ ہونا ہے اس میں سزا پانے والے کون ہوں گے، یہ بات تم آج ہی سن لو۔ سزا لازماً انہی ظالموں کو ملنی ہے جنہوں نے یہ جھوٹے عقیدے گھڑے کہ اللہ کے ساتھ اس کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کچھ دوسری ہستیاں بھی شریک ہیں، اور اس سے بھی زیادہ بڑھ کر ان کا ظلم یہ ہے کہ جب ان کے سامنے سچائی پیش کی گئی تو انہوں نے اسے مان کر نہ دیا بلکہ الٹا اسی کو جھوٹا قرار دیا جس نے سچائی پیش کی۔ رہا وہ شخص جو سچائی لایا اور وہ لوگ جنہوں نے اس کی تصدیق کی، تو ظاہر ہے کہ اللہ کی عدالت سے ان کے سزا پانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔