تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 35
Tafseerلِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿35﴾
- لِيُكَفِّرَتاکہ دور کردے
- اللّٰهُاللہ
- عَنْهُمْان سے
- اَسْوَاَبرائی
- الَّذِيْوہ جو
- عَمِلُوْاانہوں نے کیے (اعمال)
- وَيَجْزِيَهُمْاور انہیں جزا دے
- اَجْرَهُمْان کا اجر
- بِاَحْسَنِبہترین (اعمال)
- الَّذِيْوہ جو
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تاکہ جو بدترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے۔ 54
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّمَر 54
نبی ﷺ پر جو لوگ ایمان لائے تھے، زمانہ جاہلیت میں ان سے اعتقادی اور اخلاقی دونوں ہی طرح کے بد ترین گناہ سرزد ہوچکے تھے۔ اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے صرف یہی ایک نیکی نہ کی تھی کہ اس جھوٹ کو چھوڑ دیا جسے وہ پہلے مان رہے تھے اور وہ سچائی قبول کرلی جسے حضور ﷺ نے پیش فرمایا تھا، بلکہ مزید براں انہوں نے اخلاق، عبادات اور معاملات میں بہترین اعمال صالحہ انجام دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے وہ بدترین اعمال جو جاہلیت میں ان سے سرزد ہوئے تھے ان کے حساب سے محو کردیے جائیں گے، اور ان کو انعام ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں سب سے بہتر ہوں گے۔