تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 114
لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا﴿114﴾
- لَا خَيْرَنہیں کوئی بھلائی
- فِيْمیں
- كَثِيْرٍاکثر
- مِّنْسے
- نَّجْوٰىھُمْان کے مشورے
- اِلَّامگر
- مَنْ اَمَرَحکم دے
- بِصَدَقَةٍخیرات کا
- اَوْیا
- مَعْرُوْفٍاچھی بات کا
- اَوْ اِصْلَاحٍیا اصلاح کرانا
- بَيْنَ النَّاسِلوگوں کے درمیان
- وَمَنْاور جو
- يَّفْعَلْکرے
- ذٰلِكَیہ
- ابْتِغَآءَحاصل کرنا
- مَرْضَاتِ اللّٰهِاللہ کی رضا
- فَسَوْفَسو عنقریب
- نُؤْتِيْهِہم اسے دیں گے
- اَجْرًاثواب
- عَظِيْمًابڑا
Translation · Tafheem-ul-Quran
لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اُسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے