Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 115

Tafseer
  1. وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ع﴿115﴾

    1. وَمَنْاور جو
    2. يُّشَاقِقِمخالفت کرے
    3. الرَّسُوْلَرسول
    4. مِنْۢ بَعْدِاس کے بعد
    5. مَاجب
    6. تَبَيَّنَظاہر ہوچکی
    7. لَهُاس کے لیے
    8. الْهُدٰىہدایت
    9. وَاور
    10. يَتَّبِعْچلے
    11. غَيْرَخلاف
    12. سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَمومنوں کا راستہ
    13. نُوَلِّهٖہم حوالہ کردیں گے
    14. مَا تَوَلّٰىجو اس نے اختیار کیا
    15. وَنُصْلِهٖاور ہم اسے داخل کرینگے
    16. جَهَنَّمَجہنم
    17. وَسَآءَتْبری جگہ
    18. مَصِيْرًاپہنچے (پلٹنے) کی جگہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو ، تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا 143اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 143 جب مذکورہ بالا مقدمہ میں وحی الہٰی کی بنا پر نبی ﷺ نے اس خائن مسلمان کے خلاف اور اس بےگناہ یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرما دیا تو اس منافق پر جاہلیت کا اس قدر سخت دورہ پڑا کہ وہ مدینہ سے نکل کر اسلام اور نبی ﷺ کے دشمنوں کے پاس مکہ چلا گیا اور کھلم کھلا مخالفت پر آمادہ ہوگیا۔ اس آیت میں اس کی اسی حرکت کی طرف اشارہ ہے۔