تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 126
وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ع﴿126﴾
- وَلِلّٰهِاور اللہ کے لیے
- مَاجو
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَمَااور جو
- فِيمیں
- الْاَرْضِزمین
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ
- بِكُلِّہر
- شَيْءٍچیز
- مُّحِيْطًااحاطہ کیے ہوئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے150 اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔151
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 150
یعنی اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردینا اور خود سری و خود مختاری سے باز آجانا اس لیے بہترین طریقہ ہے کہ یہ حقیقت کے عین مطابق ہے۔ جب اللہ زمین و آسمان کا اور ان ساری چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں تو انسان کے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ اس کی بندگی و اطاعت پر راضی ہوجائے اور سر کشی چھوڑ دے۔
سورة النِّسَآء 151
یعنی اگر انسان اللہ کے آگے سر تسلیم خم نہ کرے اور سرکشی سے باز نہ آئے تو وہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتا، اللہ کی قدرت اس کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔