Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 135

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا﴿135﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے (ایمان والے)
    3. كُوْنُوْاہوجاؤ
    4. قَوّٰمِيْنَقائم رہنے والے
    5. بِالْقِسْطِانصاف پر
    6. شُهَدَآءَ لِلّٰهِگواہی دینے والے اللہ کیلئے
    7. وَلَوْاگرچہ
    8. عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْخود تمہارے اوپر (خلاف)
    9. اَوِیا
    10. الْوَالِدَيْنِماں باپ
    11. وَاور
    12. الْاَقْرَبِيْنَقرابت دار
    13. اِنْ يَّكُنْاگر (چاہے) ہو
    14. غَنِيًّاکوئی مالدار
    15. اَوْ فَقِيْرًایا محتاج
    16. فَاللّٰهُپس اللہ
    17. اَوْلٰىخیر خواہ
    18. بِهِمَاان کا
    19. فَلَاسو۔ نہ
    20. تَتَّبِعُواپیروی کرو
    21. الْهَوٰٓىخواہش
    22. اَنْ تَعْدِلُوْاکہ انصاف کرو
    23. وَاِنْ تَلْوٗٓااور اگر تم زبان دباؤ گے
    24. اَوْ تُعْرِضُوْایا پہلو تہی کروگے
    25. فَاِنَّتو بیشک
    26. اللّٰهَاللہ
    27. كَانَہے
    28. بِمَاجو
    29. تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
    30. خَبِيْرًاباخبر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے لوگو جو ایمان لائےہو ، انصاف کے علمبردار 164 اور خدا واسطے کے گواہ بنو165 اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی پٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 164 یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو، بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علمبردار بنو۔ تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھنا ہے۔ تمہیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل و راستی قائم ہو۔ عدل کو اپنے قیام کے لیے جس سہارے کی ضرورت ہے، مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔ سورة النِّسَآء 165 یعنی تمہاری گواہی محض خدا کے لیے ہونی چاہیے، کسی کی رو رعایت اس میں نہ ہو، کوئی ذاتی مفاد یا خدا کے سوا کسی کی خوشنودی تمہارے مد نظر نہ ہو۔