Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 29

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا﴿29﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے (مومن)
    3. لَا تَاْكُلُوْٓانہ کھاؤ
    4. اَمْوَالَكُمْاپنے مال
    5. بَيْنَكُمْآپس میں
    6. بِالْبَاطِلِناحق
    7. اِلَّآمگر
    8. اَنْ تَكُوْنَیہ کہ ہو
    9. تِجَارَةًکوئی تجارت
    10. عَنْ تَرَاضٍآپس کی خوشی سے
    11. مِّنْكُمْتم سے
    12. َلَا تَقْتُلُوْٓااور نہ قتل کرو
    13. اَنْفُسَكُمْاپنے نفس (ایکدوسرے)
    14. اِنَّبیشک
    15. اللّٰهَاللہ
    16. كَانَہے
    17. بِكُمْتم پر
    18. رَحِيْمًابہت مہربان
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دُوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاوٴ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے۔ 50 اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ 51 یقین مانو کہ اللہ تمہارے اُوپر مہربان ہے۔52
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 50 ”باطل طریقوں“ سے مراد وہ تمام طریقے ہیں جو خلاف حق ہوں اور شرعاً و اخلاقاً ناجائز ہوں۔ ”لین دین“ سے مراد یہ ہے کہ آپس میں مفاد و منافع کا تبادلہ ہونا چاہیے جس طرح تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی ضروریات فراہم کرنے کے لیے محنت کرتا ہے اور وہ اس کا معاوضہ دیتا ہے۔ ”آپس کی رضامندی“ سے مراد یہ ہے کہ لین دین نہ تو کسی ناجائز دباؤ سے ہو اور نہ فریب و دغا سے۔ رشوت اور سود میں بظاہر رضامندی ہوتی ہے مگر درحقیقت جوے میں حصہ لینے والا ہر شخص اس غلط امید پر رضا مند ہوتا ہے کہ جیت اس کی ہوگی۔ ہارنے کے ارادے سے کوئی بھی راضی نہیں ہوتا۔ جعل اور فریب کے کاروبار میں بھی بظاہر رضا مندی ہوتی ہے مگر اس غلط فہمی کی بنا پر ہوتی ہے کہ اندر جعل و فریب نہیں ہے۔ اگر فریق ثانی کو معلوم ہو کہ تم اس سے جعل یا فریب کر رہے ہو تو وہ ہرگز اس پر راضی نہ ہو۔ سورة النِّسَآء 51 یہ فقرہ پچھلے فقرے کا تتمہ بھی ہوسکتا ہے اور خود ایک مستقل فقرہ بھی۔ اگر پچھلے فقرے کا تتمہ سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھانا خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ دنیا میں اس سے نظام تمدن خراب ہوتا ہے اور اس کے برے نتائج سے حرام خور آدمی خود بھی نہیں بچ سکتا۔ اور آخرت میں اس کی بدولت آدمی سخت سزا کا مستوجب بن جاتا ہے اور اگر اسے مستقل فقرہ سمجھا جائے تو اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ دوسرے یہ کہ خود کشی نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے الفاظ ایسے جامع استعمال کئے ہیں اور ترتیب کلام ایسی رکھی ہے کہ اس سے یہ تینوں مفہوم نکلتے ہیں اور تینوں حق ہیں۔ سورة النِّسَآء 52 یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا خیر خواہ ہے، تمہاری بھلائی چاہتا ہے، اور یہ اس کی مہربانی ہی ہے کہ وہ تم کو ایسے کاموں سے منع کر رہا ہے جن میں تمہاری اپنی بربادی ہے۔