Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 61

  1. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ﴿61﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. قِيْلَکہا جاتا ہے
    3. لَھُمْانہیں
    4. تَعَالَوْاآؤ
    5. اِلٰىطرف
    6. مَآ اَنْزَلَجو نازل کیا
    7. اللّٰهُاللہ
    8. وَاِلَىاور طرف
    9. الرَّسُوْلِرسول
    10. رَاَيْتَآپ دیکھیں گے
    11. الْمُنٰفِقِيْنَمنافقین
    12. يَصُدُّوْنَہٹتے ہیں
    13. عَنْكَآپ سے
    14. صُدُوْدًارک کر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آوٴ اُس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آوٴ رسول ؐ کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں۔92
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 92 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین کی عام روش تھی کہ جس مقدمہ میں اندیشہ ہوتا تھا کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا اس کو تو نبی ﷺ کے پاس لے آتے تھے اور جس مقدمہ میں اندیشہ ہوتا تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف ہوگا اس کو آپ ﷺ کے پاس لانے سے انکار کردیتے تھے۔ یہی حال اب بھی منافقوں کا ہے کہ اگر شریعت کا فیصلہ ان کے حق میں ہو تو سر آنکھوں پر ورنہ ہر اس قانون، ہر اس رسم و رواج اور ہر اس عدالت کے دامن میں جا پناہ لیں گے جس سے انہیں اپنے منشاء کے مطابق فیصلہ حاصل ہونے کی توقع ہو۔