Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 62

  1. فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا﴿62﴾

    1. فَكَيْفَپھر کیسی
    2. اِذَآجب
    3. اَصَابَتْھُمْانہیں پہنچے
    4. مُّصِيْبَةٌکوئی مصیبت
    5. بِمَااس کے سبب جو
    6. قَدَّمَتْآگے بھیجا
    7. اَيْدِيْهِمْان کے ہاتھ
    8. ثُمَّپھر
    9. جَآءُوْكَوہ آئیں آپ کے پاس
    10. يَحْلِفُوْنَقسم کھاتے ہوئے
    11. بِاللّٰهِاللہ کی
    12. اِنْکہ
    13. اَرَدْنَآہم نے چاہا
    14. اِلَّآسوائے (صرف)
    15. اِحْسَانًابھلائی
    16. وَّتَوْفِيْقًااور موافقت
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں93 اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بَھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 93 غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ جب ان کی اس منافقانہ حرکت کا مسلمانوں کو علم ہوجاتا ہے اور انہیں خوف ہوتا ہے کہ اب باز پرس ہوگی اور سزا ملے گی اس وقت قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان کا یقین دلانے لگتے ہیں۔