Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 64

  1. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا﴿64﴾

    1. وَمَآاور نہیں
    2. اَرْسَلْنَاہم نے بھیجا
    3. مِنْ رَّسُوْلٍکوئی رسول
    4. اِلَّامگر
    5. لِيُطَاعَتاکہ اطاعت کی جائے
    6. بِاِذْنِ اللّٰهِاللہ کے حکم سے
    7. وَلَوْاور اگر
    8. اَنَّھُمْیہ لوگ
    9. اِذْ ظَّلَمُوْٓاجب انہوں نے ظلم کیا
    10. اَنْفُسَھُمْاپنی جانوں پر
    11. جَآءُوْكَوہ آتے آپ کے پاس
    12. فَاسْتَغْفَرُواپھر بخشش چاہتے وہ
    13. اللّٰهَاللہ
    14. وَاسْتَغْفَرَاور مغفرت چاہتا
    15. لَھُمُان کے لیے
    16. الرَّسُوْلُرسول
    17. لَوَجَدُواتو وہ ضرور پاتے
    18. اللّٰهَاللہ
    19. تَوَّابًاتوبہ قبول کرنیوالا
    20. رَّحِيْمًامہربان
Translation · Tafheem-ul-Quran
(انہیں بتاوٴ کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔94 اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 94 یعنی خدا کی طرف سے رسول اس لیے نہیں آتا ہے کہ بس اس کی رسالت پر ایمان لے آؤ اور پھر اطاعت جس کی چاہو کرتے رہو۔ بلکہ رسول کے آنے کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ زندگی کا جو قانون وہ لے کر آیا ہے، تمام قوانین کو چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی کی جائے اور خدا کی طرف سے جو احکام وہ دیتا ہے، تمام احکام کو چھوڑ کر صرف انہی پر عمل کیا جائے۔ اگر کسی نے یہی نہ کیا تو پھر اس کا محض رسول کو رسول مان لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔