تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 65
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴿65﴾
- فَلَا وَرَبِّكَپس قسم ہے آپ کے رب کی
- لَا يُؤْمِنُوْنَوہ مومن نہ ہوں گے
- حَتّٰيجب تک
- يُحَكِّمُوْكَآپ کو منصف بنائیں
- فِيْمَااس میں جو
- شَجَرَجھگڑا اٹھے
- بَيْنَھُمْان کے درمیان
- ثُمَّپھر
- لَا يَجِدُوْاوہ نہ پائیں
- فِيْٓ اَنْفُسِهِمْاپنے دلوں میں
- حَرَجًاکوئی تنگی
- مِّمَّااس سے جو
- قَضَيْتَآپ فیصلہ کریں
- وَيُسَلِّمُوْااور تسلیم کرلیں
- تَسْلِيْمًاخوشی سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
نہیں، اے محمد ؐ !تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اِختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسُوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔ 95
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 95
اس آیت کا حکم صرف حضور صلی اللہ علیہ کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لئے ہے جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ لائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ کی ہدایت و راہنمائی کے تحت آپ نے عمل کیا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے۔ اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ ہے حدیث میں اسی بات کو نبی ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ لایومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیا ہوں۔