Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 66

  1. وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ﴿66﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. اَنَّا كَتَبْنَاہم لکھ دیتے (حکم کرتے)
    3. عَلَيْهِمْان پر
    4. اَنِکہ
    5. اقْتُلُوْٓاقتل کرو تم
    6. اَنْفُسَكُمْاپنے آپ
    7. اَوِ اخْرُجُوْایا نکل جاؤ
    8. مِنْسے
    9. دِيَارِكُمْاپنے گھر
    10. مَّا فَعَلُوْهُوہ یہ نہ کرتے
    11. اِلَّاسوائے
    12. قَلِيْلٌچند ایک
    13. مِّنْھُمْان سے
    14. وَلَوْاور اگر
    15. اَنَّھُمْیہ لوگ
    16. فَعَلُوْاکرتے
    17. مَاجو
    18. يُوْعَظُوْنَنصیحت کی جاتی ہے
    19. بِهٖاس کی
    20. لَكَانَالبتہ ہوتا
    21. خَيْرًابہتر
    22. لَّھُمْان کے لیے
    23. وَاَشَدَّاور زیادہ
    24. تَثْبِيْتًاثابت رکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاوٴ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے۔ 96حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا97
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 96 یعنی جب ان کا حال یہ ہے کہ شریعت کی پابندی کرنے میں ذرا سا نقصان یا تھوڑی سی تکلیف بھی یہ برداشت نہیں کرسکتے تو ان سے کسی بڑی قربانی کی ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی۔ اگر جان دینے یا گھر بار چھوڑنے کا مطالبہ ان سے کیا جائے تو یہ فوراً بھاگ کھڑے ہوں گے اور ایمان و اطاعت کے بجائے کفر و نافرمانی کی راہ لیں گے۔ سورة النِّسَآء 97 یعنی اگر یہ لوگ شک اور تذبذب اور تردد چھوڑ کر یکسوئی کے ساتھ رسول کی اطاعت و پیروی پر قائم ہوجاتے اور ڈانواں ڈول نہ رہتے تو ان کی زندگی تزلزل سے محفوظ ہوجاتی۔ ان کے خیالات، اخلاق اور معاملات سب کے سب ایک مستقل اور پائدار بنیاد پر قائم ہوجاتے اور یہ ان برکات سے بہرہ ور ہوتے جو ایک شاہراہ مستقیم پر ثابت قدمی کے ساتھ چلنے سے ہی حاصل ہوا کرتی ہیں۔ جو شخص تذبذب اور تردد کی حالت میں مبتلا ہو، کبھی اس راستہ پر چلے اور کبھی اس راستہ پر، اور اطمینان کسی راستہ کے بھی صحیح ہونے پر اسے حاصل نہ ہو اس کی ساری زندگی نقش بر آب کی طرح بسر ہوتی ہے اور سعی لا حاصل بن کر رہ جاتی ہے۔