تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 22
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿22﴾
- ذٰلِكَیہ
- بِاَنَّهُمْاس لئے کہ وہ
- كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْانکے پاس آتے تھے
- رُسُلُهُمْان کے رسول
- بِالْبَيِّنٰتِکھلی نشانیوں کے ساتھ
- فَكَفَرُوْاتو انہوں نے کفر کیا
- فَاَخَذَهُمُپس آپکڑا انہیں
- اللّٰهُ ۭاللہ نے
- اِنَّهٗبیشک وہ
- قَوِيٌّقوی
- شَدِيْدُ الْعِقَابِسخت عذاب والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے رسُول بیّنات 34 لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا، یقیناً وہ بڑی قوّت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 34
مبیّنات سے مراد تین چیزیں ہیں۔ ایک، ایسی نمایاں علامات اور نشانیاں جو ان کے مامور من اللہ ہونے پر شاہد تھیں۔ دوسرے، ایسی روشن دلیلیں جو ان کی پیش کردہ تعلیم کے حق ہونے کا ثبوت دے رہی تھیں۔ تیسرے، زندگی کے مسائل و معاملات کے متعلق ایسی واضح ہدایات جنہیں دیکھ کر ہر معقول آدمی یہ جان سکتا تھا کہ ایسی پاکیزہ تعلیم کوئی جھوٹا خود غرض آدمی نہیں دے سکتا۔