Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 23

  1. وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ﴿23﴾

    1. وَلَقَدْاور تحقیق
    2. اَرْسَلْنَاہم نے بھیجا
    3. مُوْسٰىموسیٰ
    4. بِاٰيٰتِنَااپنی نشانیوں کے ساتھ
    5. وَسُلْطٰنٍاور سند
    6. مُّبِيْنٍروشن
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے موسیٰؑ 35 کو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 35 حضرت موسیٰ کے قصے کی دوسرے تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو جلد اول صفحات 75 تا 79۔ 425۔ 459۔ جلد دوم 64 تا 88۔ 301 تا 310۔ 330 365 366۔ 370۔ 382۔ 383۔ 471 تا 474۔ 642 تا 649۔ جلد سوم، 34 تا 40۔ 71۔ 72۔ 85۔ 88 تا 121 279۔ 280۔ 480 تا 498۔ 557 تا 560۔ 610۔ 613 تا 639۔ جلد چہارم، سورة احزاب، آیت 69۔ الصافات، آیات 114 تا 122۔ سورة الْمُؤْمِن 36 یعنی ایسی صریح علامات کے ساتھ جن سے یہ امر مشتبہ نہیں رہ جاتا تھا کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور ان کی پشت پر اللہ رب العٰلمین کی طاقت ہے۔ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے قصے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان پر ایک غائر نگاہ ڈالنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کونسی علامات تھیں جن کو یہاں ان کے مامور من اللہ ہونے کی کھلی سند قرار دیا جا رہا ہے۔ اول تو یہ عجیب بات تھی کہ جو شخص چند سال پہلے فرعون کی قوم کے ایک آدمی کو قتل کر کے ملک سے فرار ہوگیا تھا اور جس کے وارنٹ نکلے ہوئے تھے وہ اچانک ایک لاٹھی لیے ہوئے سیدھا فرعون کے بھرے دربار میں درّانہ چلا آتا ہے اور دھڑلے کے ساتھ بادشاہ اور اس کے اعیان سلطنت کو مخاطب کر کے دعوت دیتا ہے کہ وہ اسے اللہ رب العا لمین کا نمائندہ تسلیم کر کے اس کی ہدایات پر عمل کریں، اور کسی کو اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ حالانکہ حضرت موسیٰ جس قوم سے تعلق رکھتے تھے وہ اس بری طرح غلامی کے جوتے تلے پس رہی تھی کہ اگر الزام قتل کی بنا پر ان کو فوراً گرفتار کرلیا جاتا تو اس بات کا کوئی اندیشہ نہ تھا کہ ان کی قوم بغاوت تو درکنار، احتجاج ہی کے لیے زبان کھول سکے گی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عصا اور ید بیضاء کے معجزے دیکھنے سے بھی پہلے فرعون اور اس کے اہل دربار محض حضرت موسیٰ کی آمد ہی سے مرعوب ہوچکے تھے اور پہلی نظر ہی میں انہیں محسوس ہوگیا تھا کہ یہ شخص کسی اور ہی طاقت کے بل بوتے پر آیا ہے۔ پھر جو عظیم الشان معجزے پے در پے ان کے ہاتھ سے صادر ہوئے ان میں سے ہر ایک یہ یقین دلانے کے لیے کافی تھا کہ یہ جادو کا نہیں، خدائی طاقت ہی کا کرشمہ ہے۔ آخر کس جادو کے زور سے ایک لاٹھی فی الواقع اژدہا بن سکتی ہے ؟ یا ایک پورے ملک میں قحط پڑ سکتا ہے ؟ یا لاکھوں مربع میل کے علاقے میں ایک نوٹس پر طرح طرح کے طوفان آسکتے ہیں اور ایک نوٹس پر وہ ختم ہو سکتے ہیں ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کے بیان کے مطابق فرعون اور اس کی سلطنت کے تمام ذمہ دار لوگ، زبان سے چاہے انکار کرتے رہے ہوں، مگر دل ان کے پوری طرح جان چکے تھے کہ حضرت موسیٰ فی الواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوئے ہیں۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 86 تا 89، جلد سوم، طہ، حواشی 29 تا 53، الشعراء، حواشی 22 تا 41، النمل، حاشیہ 16)۔