Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 25

  1. فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ﴿25﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. جَآءَهُمْوہ آئے انکے پاس
    3. بِالْحَقِّحق کے ساتھ
    4. مِنْ عِنْدِنَاہماری طرف سے
    5. قَالُواانہوں نے کہا
    6. اقْتُلُوْٓاتم قتل کردو
    7. اَبْنَآءَان کے بیٹے
    8. الَّذِيْنَوہ جو
    9. اٰمَنُوْاایمان لائے
    10. مَعَهٗاس کے ساتھ
    11. وَاسْتَحْيُوْااور زندہ رہنے دو
    12. نِسَآءَهُمْ ۭانکی عورتیں (بیٹیاں
    13. وَمَا كَيْدُاور نہیں داؤ
    14. الْكٰفِرِيْنَکافروں کا
    15. اِلَّاسوائے
    16. فِيْ ضَلٰلٍگمراہی میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا 38 تو انہوں نے کہا”جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو۔“ 39 مگر کافروں کی چال اکارت گئی۔ 40
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 38 یعنی جب پے در پے معجزات اور نشانیاں دکھا کر حضرت موسیٰ نے یہ بات ان پر پوری طرح ثابت کردی کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور مضبوط دلائل سے اپنا برسر حق ہونا پوری طرح واضح کردیا۔ سورة الْمُؤْمِن 39 سورة اعراف، آیت 128 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ فرعون کے درباریوں نے اس سے کہا تھا کہ آخر موسیٰ ؑ کو کھلی چھٹی کب تک دی جائے گی، اور اس نے کہا تھا کہ میں عنقریب بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دینے کا حکم دینے والا ہوں (تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 93)۔ اب یہ آیت بتاتی ہے کہ فرعون کے ہاں سے آخر کار یہ حکم جاری کردیا گیا۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کے حامیوں اور پیروؤں کو اتنا خوف زدہ کردیا جائے کہ وہ ڈر کے مارے ان کا ساتھ چھوڑ دیں۔ سورة الْمُؤْمِن 40 اصل الفاظ ہیں وَمَا کَیْدُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِی ضَلٰلٍ۔ اس فقرے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کافروں کی جو چال بھی تھی، گمراہی اور ظلم و جور اور مخالفت حق ہی کی راہ میں تھی، یعنی حق واضح ہوجانے اور دلوں میں قائل ہوجانے کے باوجود وہ اپنی ضد میں بڑھتے ہی چلے گئے اور صداقت کو نیچا دکھانے کے لیے انہوں نے کوئی ذلیل سے ذلیل تدبیر اختیار کرنے میں بھی باک نہ کیا۔