تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 27
وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ع﴿27﴾
- وَقَالَاور کہا
- مُوْسٰٓىموسیٰ
- اِنِّىْ عُذْتُبیشک میں نے پناہ لے لی
- بِرَبِّيْاپنے رب کی
- وَرَبِّكُمْاور تمہارے رب کی
- مِّنْسے
- كُلِّ مُتَكَبِّرٍہر مغرور
- لَّا يُؤْمِنُ(جو) ایمان نہیں رکھتا
- بِيَوْمِ الْحِسَابِروز حساب پر
Translation · Tafheem-ul-Quran
موسیٰؑ نے کہا”میں نے تو ہر اُس متکبّر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے ربّ اور تمہارے ربّ کی پناہ لے لی ہے۔“ 44
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 44
یہاں دو برابر کے احتمال ہیں، جن میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اس وقت دربار میں خود موجود ہوں، اور فرعون نے ان کی موجودگی میں انہیں قتل کردینے کا ارادہ ظاہر کیا ہو، اور حضرت نے اس کو اور اس کے درباریوں کو خطاب کر کے اسی وقت بر ملا یہ جواب دے دیا ہو۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی میں فرعون نے اپنی حکومت کے ذمہ دار لوگوں کی کسی مجلس میں یہ خیال ظاہر کیا ہو، اور اس گفتگو کی اطلاع آنجناب کو اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں نے پہنچائی ہو، اور اسے سن کر آپ نے اپنے پیروؤں کی مجلس میں یہ بات ارشاد فرمائی ہو۔ ان دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، حضرت موسیٰ کے الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرعون کی دھمکی ان کے دل میں ذرہ برابر بھی خوف کی کوئی کیفیت پیدا نہ کرسکی اور انہوں نے اللہ کے بھروسے پر اس کی دھمکی اسی کے منہ پر مار دی۔ اس واقعہ کو جس موقع پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے، اس سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ محمد ﷺ کی طرف سے بھی یہی جواب ان سب ظالموں کو ہے جو یوم الحساب سے بےخوف ہو کر آپ کو قتل کردینے کی سازشیں کر رہے ہیں۔