تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 28
وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ﴿28﴾
- وَقَالَاور کہا
- رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ڰایک مرد مومن
- مِّنْسے
- اٰلِ فِرْعَوْنَفرعون کے لوگ
- يَكْتُمُوہ چھپائے ہوئے تھا
- اِيْمَانَهٗٓایمان
- اَتَقْتُلُوْنَکیا تم قتل کرتے ہو
- رَجُلًاایک آدمی
- اَنْ يَّقُوْلَکہ وہ کہتا ہے
- رَبِّيَ اللّٰهُمیرا رب اللہ
- وَقَدْ جَآءَكُمْاور تمہارے پاس آیا ہے
- بِالْبَيِّنٰتِکھلی نشانیوں کے ساتھ
- مِنْ رَّبِّكُمْ ۭتمہارے رب کی طرف سے
- وَاِنْ يَّكُاور اگر ہے
- كَاذِبًاجھوٹا
- فَعَلَيْهِتو اس پر
- كَذِبُهٗ ۚاس کا جھوٹ
- وَاِنْ يَّكُاور اگر ہے
- صَادِقًاسچا
- يُّصِبْكُمْتمہیں پہنچے گا
- بَعْضُکچھ
- الَّذِيْوہ جو
- يَعِدُكُمْ ۭتم سے وعدہ کرتا ہے
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- لَا يَهْدِيْہدایت نہیں دیتا
- مَنْجو
- هُوَہو
- مُسْرِفٌحد سے گزرنے والا
- كَذَّابٌجھوٹا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس موقع پر آلِ فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھُپائے ہوئے تھا، بول اُٹھا”کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا ربّ اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات لے 45 آیا۔ اگر وہ جھُوٹا ہے تو اس کا جھُوٹ خود اسی پرپلٹ پڑے گا۔ 46 لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک تنائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آجائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذّاب ہو۔ 47
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 45
یعنی اس نے ایسی کھلی کھلی نشانیاں تمہیں دکھا دی ہیں جن سے یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہوچکی ہے کہ وہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ مومن آل فرعون کا اشارہ ان نشانیوں کی طرف تھا جن کی تفصیلات اس سے پہلے گزر چکی ہیں (تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 87۔ 89۔ 90۔ 91۔ 94 تا 96، بنی اسرائیل، حواشی 113 تا 116، جلد سوم، طی، حواشی 29 تا 50، الشعراء، حواشی 26 تا 39، النمل، حاشیہ 16)۔
سورة الْمُؤْمِن 46
یعنی اگر ایسی صریح نشانیوں کے باوجود تم اسے جھوٹا سمجھتے ہو تب بھی تمہارے لیے مناسب یہی ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ، کیونکہ دوسرا احتمال، اور نہایت قوی احتمال یہ بھی ہے کہ وہ سچا ہو اور اس پر ہاتھ ڈال کر تم خدا کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ۔ اس لیے اگر تم اسے جھوٹا بھی سمجھتے ہو تو اس سے تعرض نہ کرو۔ وہ اللہ کا نام لے کر جھوٹ بول رہا ہوگا تو اللہ خود اس سے نمٹ لے گا۔ قریب قریب اسی طرح کی بات اس سے پہلے خود حضرت موسیٰ ؑ بھی فرعون سے کہہ چکے تھے۔ وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ (الدخان 21) " اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ "
یہاں یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ مومن آل فرعون نے گفتگو کے آغاز میں کھل کر یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آیا ہے، بلکہ ابتداءً وہ اسی طرح کلام کرتا رہا کہ وہ بھی فرعون ہی کے گروہ کا ایک آدمی ہے اور محض اپنی قوم کی بھلائی کے لیے بات کر رہا ہے۔ مگر جب فرعون اور اس کے درباری کسی طرح راہ راست پر آتے نظر نہ آئے تو آخر میں اس نے اپنے ایمان کا راز فاش کردیا، جیسا کہ پانچویں رکوع میں اس کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے۔
سورة الْمُؤْمِن 47
اس فقرے کے دو مطلب ممکن ہیں، اور غالباً مومن آل فرعون نے قصداً یہ ذو معنی بات اسی لیے کہی تھی کہ ابھی وہ کھل کر اپنے خیالات ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ایک ہی شخص کی ذات میں راست روی جیسی خوبی اور کذب و افترا جیسی بدی جمع نہیں ہو سکتیں۔ تم علانیہ دیکھ رہے ہو کہ موسیٰ ایک نہایت پاکیزہ سیرت اور کمال درجہ کا بلند کردار انسان ہے۔ اب آخر یہ بات تمہارے دماغ میں کیسے سماتی ہے کہ ایک طرف تو وہ اتنا بڑا جھوٹا ہو کہ اللہ کا نام لے کر نبوت کا بےبنیاد دعویٰ کر بیٹھے، اور دوسری طرف اللہ اسے اتنے اعلیٰ درجے کے اخلاق عطا فرمائے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اگر حد سے تجاوز کر کے موسیٰ ؑ کی جان لینے کے درپے ہو گے اور ان پر جھوٹے الزامات عائد کر کے اپنے ناپاک منصوبے عمل میں لاؤ گے تو یاد رکھو کہ اللہ تمہیں ہرگز کامیابی کا راستہ نہ دکھائے گا۔