Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 57

  1. لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿57﴾

    1. لَخَلْقُیقیناً پیدا کرنا
    2. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    3. وَالْاَرْضِاور زمین
    4. اَكْبَرُ مِنْزیادہ بڑا ۔ سے
    5. خَلْقِ النَّاسِلوگوں کو پیدا کرنا
    6. وَلٰكِنَّاور لیکن
    7. اَكْثَرَ النَّاسِاکثر لوگ
    8. لَا يَعْلَمُوْنَسمجھتے نہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
78آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔79
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 78 اوپر کے ساڑھے تین رکوعوں میں سرداران قریش کی سازشوں پر تبصرہ کرنے کے بعد اب یہاں سے خطاب کا رخ عوام کی طرف پھر رہا ہے اور ان کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ جن حقائق کو ماننے کی دعوت محمد ﷺ تم کو دے رہے ہیں وہ سراسر معقول ہیں، ان کو مان لینے ہی میں تمہاری بھلائی ہے اور نہ ماننا تمہارے اپنے لیے تباہ کن ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے آخرت کے عقیدے کو لے کر اس پر دلائل دیے گئے ہیں، کیونکہ کفار کو سب سے زیادہ اچنبھا اسی عقیدے پر تھا اور اسے وہ بعید از فہم خیال کرتے تھے۔ سورة الْمُؤْمِن 79 یہ امکان آخرت کی دلیل ہے۔ کفار کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد انسان کا دوبارہ جی اٹھنا غیر ممکن ہے۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ در حقیقت نادان ہیں۔ اگر عقل سے کام لیں تو ان کے لیے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہ ہو کہ جس خدا نے یہ عظیم الشان کائنات بنائی ہے اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کردینا کوئی دشوار کام نہیں ہو سکتا۔