تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 56
اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ﴿56﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- يُجَادِلُوْنَجھگڑتے ہیں
- فِيْٓمیں
- اٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات
- بِغَيْرِبغیر
- سُلْطٰنٍکسی سند
- اَتٰىهُمْ ۙان کے پاس آئی ہو
- اِنْنہیں
- فِيْمیں
- صُدُوْرِهِمْان کے سینے (دل)
- اِلَّاسوائے
- كِبْرٌتکبر
- مَّا هُمْنہیں وہ
- بِبَالِغِيْهِ ۚاس تک پہنچنے والے
- فَاسْتَعِذْپس آپ پناہ چاہیں
- بِاللّٰهِ ۭاللہ کی
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَ السَّمِيْعُوہی سننے والا
- الْبَصِيْرُدیکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سَنَد و حجّت کے بغیر جو اُن کے پاس آئی ہو، اللہ کی آیات میں جھگڑے کر رہے ہیں اُن کے دلوں میں کِبر بھرا ہوا ہے75، مگر وہ اُس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں۔76 بس اللہ کی پناہ مانگ لو،77 وہ سب کچھ دیکھتا اور سُنتا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 75
یعنی ان لوگوں کی بےدلیل مخالفت اور ان کی غیر معقول کج بحثیوں کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ کی آیات میں جو سچائیاں اور خیر و صلاح کی باتیں ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں وہ ان کی سمجھ میں نہیں آتیں اس لیے یہ نیک نیتی کے ساتھ ان کو سمجھنے کی خاطر بحثیں کرتے ہیں، بلکہ ان کے اس رویہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کا غرور نفس یہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ان کے ہوتے عرب میں محمد ﷺ کی پیشوائی و رہنمائی تسلیم کرلی جائے اور بالآخر ایک روز انہیں خود بھی اس شخص کی قیادت ماننی پڑے جس کے مقابلے میں یہ اپنے آپ کو سرداری کا زیادہ حقدار سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ محمد ﷺ کی بات کسی طرح نہ چلنے پائے، اور اس مقصد کے لیے انہیں کوئی ذلیل سے ذلیل حربہ استعمال کرنے میں بھی کوئی تامل نہیں ہے۔
سورة الْمُؤْمِن 76
دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ جس کو اللہ نے بڑا بنایا ہے وہی بڑا بن کر رہے گا، اور یہ چھوٹے لوگ اپنی بڑائی قائم رکھنے کی جو کوششیں کر رہے ہیں وہ سب آخر کار ناکام ہوجائیں گی۔
سورة الْمُؤْمِن 77
یعنی جس طرح فرعون کی دھمکیوں کے مقابلے میں اللہ واحد قہار کی پناہ مانگ کر موسیٰ بےفکر ہوگئے تھے، اسی طرح سرداران قریش کی دھمکیوں اور سازشوں کے مقابلے میں تم بھی اس کی پناہ لے لو اور پھر بےفکر ہو کر اس کا کلمہ بلند کرنے میں لگ جاؤ۔